والیمیک کراڈ پر مکوکا کب لگے گا؟ والیمیک کراڈ پر جان بوجھ کر کارروائی نہیں کی جا رہی، جتیندر اوہاڑ کا سنگین الزام

ممبئی: بیڑ کے سرپنچ قتل معاملے میں دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، لیکن والیمیک کراڈ کا نام شامل نہ ہونے پر اپوزیشن نے سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی- شرد چندر پوارکے اسمبلی لیڈر جتیندر اوہاڑ نے اس مسئلے پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ والیمیک کراڈ جو دفعہ 302 کے تحت ملزم ہے، اس پر جان بوجھ کر کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی۔ حکومت اس معاملے کو طول دے کر اسے عوام کی یادداشت سے محو ہونے کی منتظر ہے تاکہ اس معاملے کو رفع ودفع کر دیا جائے۔

جیتندر اوہاڑ نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت کی سست روی اور والیمیک کراڈ کا نام مقدمے سے غائب ہونا حکومت اور مجرم کے درمیان سیاسی مفاہمت کی واضح مثال ہے۔ اوہاڑ نے اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے بیڑ کے قتل معاملے کی عدالتی تحقیقات اور مکوکا نافذ کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی، لیکن اب تک اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی 24 گھنٹوں میں مکمل ہونی چاہیے تھی، لیکن حکومت اسے مسلسل نظر انداز کر رہی ہے۔

جتیندر اوہاڑ نے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچا رہے ہیں۔ سرکاری ذمہ داری نبھانے کے بجائے اجیت پوار اسمبلی میں بی جے پی کے ایم ایل اے سریش دھس کو اشارے کرتے نظر آئے، جس کا مقصد سمجھنا مشکل نہیں ہے۔ اوہاڑ نے سابقہ حکومت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب شرد پوار کی قیادت والی حکومت تھی، تب انا ہزارے کے الزامات کے بعد شرد پوار نے سریش جین، نواب ملک، پدم سنگھ پاٹل اور وجے کمار گاوت سے استعفے طلب کیے تھے۔ موجودہ حکومت کو بھی اسی اخلاقی معیار کو اپنانا چاہیے۔

اوہاڑ نے والیمیک کراڈکو لے کر مزید سوالات اٹھائے اور کہا کہ کیا والیمیک کراڈ حکومت کے تحفظ میں ہے؟ اقتدار میں رہنے والوں نے داؤد کو پکڑنے کے دعوے کیے تھے، لیکن والیمیک کراڈ کو گرفتار کرنے میں ناکام ہیں۔ اس سے حکومت کی ناکامی اور سیاسی مفاہمت کا پردہ فاش ہو رہا ہے۔ جتیندر اوہاڑ نے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایسے معاملات پر خاموش نہ رہیں اور حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ کریں۔ اس موقع پر اوہاڑ نے کیرالہ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ کیرالہ، جو تعلیم اور خواندگی میں بھارت کی نمبر ون ریاست ہے، کبھی دہشت گردی کی ریاست نہیں بن سکتی۔ وہاں کے عوام نے کبھی بی جے پی کو منتخب نہیں کیا اور فرقہ پرستی کے خلاف مضبوط موقف اختیار کیا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading