اسرائیلی کشتییوں کی غزہ پر بمباری ، بارش کا پانی بے گھر افراد کے خیموں میں داخل

اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی پر فضائی بمباری اور توپ خانے سے گولہ باری جاری رکھی ہوئی ہے۔ حالیہ جارحانہ کارروائیوں میں مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔

اسرائیلی بندوق برداروں نے غزہ کی پٹی کے جنوب میں رفح شہر کے مغرب میں المواصی کے علاقے کی طرف فائرنگ کی۔ توپ خانے نے رفح شہر کے شمال مغربی علاقوں پر بھی اپنی بمباری تیز کردی۔ دوسری طرف بے گھر ہونے والوں کے خیموں میں پانی بھر گیا ہے۔

اسی دوران شمالی غزہ کی پٹی کے علاقوں پر اسرائیلی فضائی اور توپخانے کی بمباری جاری ہے۔ دریں اثنا غزہ کی پٹی کے وسط میں دیر البلح اور اس کے جنوب میں خان یونس کے مضافات میں نقل مکانی کرنے والے کیمپوں میں درجنوں خیمے ڈوب گئے۔ بے گھر ہونے والے 81 فیصد لوگوں کے خیمے اب رہنے کے قابل نہیں ہیں کیونکہ وہ وقت گزرنے اور موسمی حالات کی وجہ سے مکمل طور پر خراب ہو چکے ہیں۔

دریں اثنا اسرائیلی فورسز نے 10 میں سے 4 مریضوں کو اس وقت گرفتار کر لیا جب انہیں عالمی ادارہ صحت کے ذریعے انڈونیشیا ہسپتال سے الشفا ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا ۔ 7 مریض اور 10 طبی عملہ انڈونیشیا کے ہسپتال میں تشویشناک حالت میں موجود ہے۔

پرتشدد دھماکوں نے وسطی غزہ کو ہلا کر رکھ دیا۔ نصیرات کیمپ کے مغرب کے علاقے ابو مہدی میں رہائشی عمارتیں اڑ گئیں۔ اسرائیلی ڈرون نے نصیرات کے مغرب میں شہریوں کے گھروں کی طرف بھی فائرنگ کی۔ غزہ کی پٹی کے جنوب میں رفح شہر کے شمال مغربی علاقوں کو شدید توپ خانے سے گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا۔ رفح شہر کے شمال مغرب میں واقع عریبہ کے علاقے میں شہریوں کے گھروں میں آگ لگ گئی۔

واضح رہے اس سال 6 اکتوبر سے اسرائیلی کارروائیوں کا مرکز شمالی غزہ کی پٹی ہے۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے حملے کا مقصد حماس کو اپنی صفوں کی تنظیم نو سے روکنا ہے۔ غزہ میں حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے غزہ پر اسرائیل کی پرتشدد جنگ میں 45,500 سے زیادہ فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔ مرنے والوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading