ممبئی:مہنگائی، غریبی، بے روزگاری اور بڑھتے ہوئے سماجی تفاوت ومنافرت جیسے مسائل پر ہم نے پی ایم مودی سے کھلی بات چیت کا مطالبہ کیا تھا لیکن اب آر ایس ایس کے جنرل سکریٹری دتاتریہ ہوسبلے نے بھی انہی مسائل کو اٹھاتے ہوئے ’مودی نامکس‘ سے انکار کردیا ہے۔ آرایس ایس کے جنرل سکریٹری کے اس موقف نے مودی کے وکاس پروش کی قلعی اتاردی ہے۔ یہ تنقید آج یہاں این سی پی کے چیف ریاستی ترجمان مہیش تپاسے نے کی ہے۔
پارٹی دفتر میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے مہیش تپاسے نے کہا کہ ملک میں غریبی وبیروزگاری ہے جس کا بالآخر آرایس ایس کو احساس ہوگیا ہے۔ اس لیے موہن بھاگوت کو چاہئے کہ وہ پی ایم مودی ووزیرمالیات نرملاسیتارمن سے ملکی معیشت سے متعلق جواب طلب کریں۔تپاسے نے کہا کہ بڑے بڑے پروگرام اورتشہیر پر خطیررقم خرچ کرنے کے باوجود بھی مودی حکومت پچھڑے، غریب اور پسماندہ کسانوں اور یہاں تک کہ چھوٹے تاجروں سے تال میل نہیں بناسکے۔ بی جے پی حکومت صرف چندصنعتکارگھرانوں کو ان کی دولت میں مزید اضافے کا موقع مہیاکرنے میں مصروف ہیں۔ انہیں ملک کے غریبوں اور بیروزگاروں کی کوئی فکر نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ اب آر ایس ایس کے جنرل سکریٹری بھی اس معاملے پر خاموش نہیں رہ سکے۔ مہیش تپاسے نے کیا گوکہ مودی حکومت خود کسی معاملے میں جوابدہ تصور نہیں کرتی ہے لیکن اس سے ملک کے مسائل ختم نہیں ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آرایس ایس کے جنرل سکریٹری کے ذریعے مودی حکومت پر کی جانے والی تنقید دراصل این سی پی کے اس موقف کی تائید ہے کہ مودی غریبی وبیروزگاری اور سماجی عدم مساوات جیسے مسائل پر اپنے لب کھولیں اور اسے دور کرنے کی کوشش کریں۔