مہاراشٹر میں دیہی علاقوں میں مکانات، زرعی پمپوں کے لیے بجلی کی رعایت، سڑکوں کی ترقی کو تیز کرنے اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کی جانب اہم پیش رفت

بجٹ اجلاس کے پہلے دن نائب وزیراعلیٰ اور وزیر خزانہ اجیت پوار نے مالی سال 2024-25 کے اضافی مطالبات اسمبلی میں پیش کیے

ممبئی: دیہی عوام کے لیے وزیراعظم رہائشی منصوبہ کے تحت مکانات، وزیراعلیٰ بلی راجا بجلی رعایتی منصوبہ کے تحت زرعی پمپ صارفین کو بجلی کے نرخوں میں سبسڈی، مرکزی حکومت کے منصوبوں کے تحت سڑکوں اور پلوں کے منصوبوں کے لیے بغیر سود کے قرض کی فراہمی، راجشری چھترپتی شاہو مہاراج تعلیمی فیس اسکالرشپ منصوبہ، قومی دیہی صحت منصوبہ، پونے رنگ روڈ اور جالنہ-ناندیڑ ایکسپریس وے منصوبوں کی رفتار بڑھانے، گوداوری مراٹھواڑا آبپاشی ترقیاتی کارپوریشن کے لیے بلی راجا جل سنجیونی منصوبہ اور دیگر عوامی فلاحی اسکیموں سمیت ریاستی بنیادی ڈھانچے کو مستحکم کرنے کے مقصد سے کل 6486.20 کروڑ روپے کے اضافی مطالبات آج قانون ساز اسمبلی میں پیش کیے گئے، جن کا خالص بوجھ 4245.94 کروڑ روپے ہوگا۔

بجٹ اجلاس کے پہلے دن نائب وزیراعلیٰ اور وزیر خزانہ اجیت پوار نے مالی سال 2024-25 کے اضافی مطالبات اسمبلی میں پیش کیے۔ 6486.20 کروڑ روپے کے ان مطالبات میں سے 932.54 کروڑ روپے لازمی اخراجات، 3420.41 کروڑ روپے منصوبہ بند پروگراموں اور 2133.25 کروڑ روپے مرکزی حکومت کی معاونت یافتہ اسکیموں کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ اگرچہ مجموعی مطالبہ 6486.20 کروڑ روپے ہے، لیکن اس کا اصل خالص مالی بوجھ 4245.94 کروڑ روپے ہوگا۔

پیش کیے گئے اہم اضافی مطالبات میں وزیراعظم رہائشی منصوبہ (دیہی) کے تحت عام اور درج فہرست ذات و قبائل کے مستحقین کے لیے 3752.16 کروڑ روپے، زرعی پمپ صارفین کے لیے وزیراعلیٰ بلی راجا بجلی رعایتی منصوبے کے تحت 2000.00 کروڑ روپے، مرکزی حکومت کے خصوصی امدادی منصوبے کے تحت سڑکوں اور پلوں کے منصوبوں کے لیے بغیر سود کے قرض کی مد میں 1450.00 کروڑ روپے، قومی دیہی روزگار مشن کے لیے مرکز اور ریاستی امداد کی مد میں 637.42 کروڑ روپے، میونسپل کارپوریشن اور بلدیاتی اداروں کے لیے اسٹامپ ڈیوٹی گرانٹ کی مد میں 600.00 کروڑ روپے، راجشری چھترپتی شاہو مہاراج تعلیمی فیس اسکالرشپ منصوبے کے لیے 375.00 کروڑ روپے، قومی دیہی صحت مہم کے لیے مرکزی امداد کی مد میں 335.57 کروڑ روپے، گرام پنچایت سڑکوں کی اسٹریٹ لائٹ کے بجلی بل اور تاخیر سے ادائیگی پر سود کی مد میں 300.00 کروڑ روپے، ریاستی حکومت کے ذریعے چار شوگر ملوں کے لیے قومی کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن سے کام کرنے والے سرمایہ کے لیے 296.00 کروڑ روپے، پونے رنگ روڈ اور جالنہ-ناندیڑ ایکسپریس وے منصوبوں کے لیے اراضی کے حصول پر لیے گئے قرض کے سود کی مد میں 244.00 کروڑ روپے شامل ہیں۔

اس کے علاوہ مہاراشٹر واٹر سپلائی اینڈ سینیٹیشن ڈیپارٹمنٹ کے ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن اور ساتویں تنخواہ کمیشن کے بقایاجات کی ادائیگی کے لیے 221.89 کروڑ روپے، گوداوری مراٹھواڑا آبپاشی ترقیاتی کارپوریشن کے لیے بلی راجا جل سنجیونی منصوبے کے تحت مختلف منصوبوں کے لیے 175.00 کروڑ روپے، قومی دریا تحفظ منصوبے کے تحت مولا-مٹھا دریا (پونے) آلودگی کنٹرول منصوبے کے لیے 171.00 کروڑ روپے، ڈاکٹر پنجاب راؤ دیشمکھ ہاسٹل الاؤنس اسکیم کے لیے 150.00 کروڑ روپے، دھرتی آبا قبائلی گرام اتکرش مہم کے تحت مرکز کی معاونت کی مد میں 100.00 کروڑ روپے اور پاورلوم صارفین کے لیے بجلی نرخوں میں سبسڈی دینے کے لیے 100.00 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

محکموں کے اعتبار سے سب سے زیادہ اضافی مطالبات دیہی ترقیات کے لیے 3006.28 کروڑ روپے، صنعت، توانائی، محنت اور کانکنی کے لیے 1688.74 کروڑ روپے، شہری ترقی کے لیے 590.28 کروڑ روپے، اعلیٰ و تکنیکی تعلیم کے لیے 412.36 کروڑ روپے، کوآپریٹیو، مارکیٹنگ و ٹیکسٹائل کے لیے 313.93 کروڑ روپے، ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی کے لیے 255.51 کروڑ روپے، ریونیو و جنگلات کے لیے 67.20 کروڑ روپے، پسماندہ طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے 67.12 کروڑ روپے اور تعمیرات عامہ کے لیے 45.35 کروڑ روپے پیش کیے گئے ہیں۔

جیتندر اوہاڈ کو ریاستی اسمبلی میں ڈرامہ کرنے کے بجائے لوک سبھا میں وزیرِ خارجہ کے سامنے احتجاج کرنا چاہیے تھا – آنند پرانجے

ممبئی: راشٹروادی کانگریس کے چیف ترجمان آنند پرانجے نے جیتندر اوہاڈ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں ملک کی خارجہ پالیسی پر اعتراض تھا تو انہیں مہاراشٹر اسمبلی میں ڈرامہ کرنے کے بجائے اپنے پارٹی کے ارکانِ پارلیمان کے ذریعے لوک سبھا کے اجلاس میں وزیرِ خارجہ کے سامنے ہتھکڑیاں پہن کر احتجاج کرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے جیتندر اوہاڈ کو "نقل کار” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ محض اسٹنٹ بازی کے عادی ہیں اور اس بار بھی انہوں نے محض خود کو نمایاں کرنے کے لیے یہ حرکت کی ہے۔

آنند پرانجے نے سوال اٹھایا کہ جیتندر اوہاڈ میڈیا پر الزام لگا رہے ہیں کہ ان کی آواز دبائی جا رہی ہے، جبکہ یہی میڈیا روزانہ مختلف موضوعات پر ان کی تقاریر اور بیانات کو نمایاں کوریج دیتا ہے۔ اگر ان کی باتوں کو مسلسل نشر کیا جا رہا ہے تو پھر وہ یہ دعویٰ کیسے کر سکتے ہیں کہ ان کی آواز دبا دی گئی ہے؟

انہوں نے مزید کہا کہ جمہوریت میں حزبِ اختلاف کو اپنی رائے مثبت انداز میں پیش کرنی چاہیے، جیسا کہ جیتندر اوہاڈ اکثر کرتے ہیں، لیکن اس مرتبہ انہوں نے محض سنسنی پیدا کرنے اور خود کو نمایاں کرنے کے لیے یہ ڈرامہ کیا۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ جب وہ اسمبلی میں ہتھکڑیاں پہن کر احتجاج کر رہے تھے تو ان کے اپنے ہی پارٹی کے کسی بھی رکنِ اسمبلی نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔

آنند پرانجے نے نشاندہی کی کہ امریکہ سے بے دخل کیے گئے بھارتی شہریوں کو ہتھکڑیاں پہنائی گئیں، مگر خارجہ پالیسی کا تعین نہ تو ریاستی اسمبلی میں ہوتا ہے اور نہ ہی قانون ساز کونسل میں، بلکہ یہ معاملہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں طے ہوتا ہے۔ اگر اس مسئلے پر احتجاج کرنا تھا تو جیتندر اوہاڈ کے پارٹی کے اراکینِ پارلیمان کو لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں ہتھکڑیاں پہن کر احتجاج کرنا چاہیے تھا، نہ کہ مہاراشٹر اسمبلی میں ڈرامہ رچانا چاہیے تھا۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading