ریاست میں خواتین کی سلامتی خطرے میں، مجرموں کو سرعام پھانسی دی جائے: سپریا سولے

پونے: ریاست میں خواتین کی سلامتی ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے، مگر حکومت اس سنگین مسئلے سے چشم پوشی کر رہی ہے۔ سیاست کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سنگین معاملات کی مناسب تحقیقات ہونی چاہیے۔ سوَرگیٹ بس ڈپو کے دورے کے دوران میں نے پوری صورتحال کا جائزہ لیا۔ جس طریقے سے سوَرگیٹ کا واقعہ نمٹایا گیا، وہ نہایت غیر حساس رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ مہاراشٹر میں خواتین کا تحفظ خطرے میں ہے، ریاست میں جرائم میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور خواتین پر مظالم میں بے پناہ اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ چاکن میں ایک پولیس افسر پر کویتے سے حملہ کیا گیا، مرکزی وزیر رکشا کھڑسے کی بیٹی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا واقعہ بھی سنگین ہے۔ سوَرگیٹ کیس کو صحیح طریقے سے نہیں نمٹایا گیا۔ حکومت کو حساس رویہ اختیار کرنا ہوگا اور ذمہ دار عہدوں پر فائز افراد کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار گروپ) کی صدر اور پارلیمنٹ کی بااثر رکن، سپریا سولے نے پونے میں میڈیا سے گفتگو کے دوران کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مہاراشٹر میں جرائم میں بے تحاشہ اضافہ ہو رہا ہے، اور خواتین پر ہونے والے مظالم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ چاکن میں ایک پولیس افسر پر جان لیوا حملہ ہوا، مرکزی وزیر رکشا کھڑسے کی بیٹی کو ہراساں کیا گیا، اور اس سے قبل سوَرگیٹ بس اسٹیشن پر ایک لڑکی کے ساتھ زیادتی کا لرزہ خیز واقعہ پیش آیا۔ یہ تمام معاملات نہایت سنگین ہیں اور میں ان سب کی سخت مذمت کرتی ہوں۔ ریاست میں خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے، مگر حکومت اس معاملے میں لاپرواہی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

سپریا سولے نے کہا کہ سوَرگیٹ جیسے واقعات ریاست میں مسلسل رونما ہو رہے ہیں اور یہ نہایت ہی افسوسناک ہیں۔ جس انداز میں یہ واقعہ پیش آیا اور اسے جس سمت لے جانے کی کوشش کی گئی، وہ قابل مذمت ہے۔ یہ واقعہ نہ کسی تاریک گوشے میں ہوا، نہ ہی کسی سنسان جگہ پر، بلکہ سرعام اور خوف و دہشت کے ماحول میں انجام دیا گیا۔ بطور معاشرہ، ہمیں خواتین پر ہونے والے ہر ظلم و زیادتی کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے۔

سپریا سولے نے مزید کہا کہ بدلاپور میں جب ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا، تب میں نے دیویندر فڈنویس سے اپیل کی تھی کہ مہاراشٹر کو پورے ملک کے لیے مثال بنانا چاہیے۔ عصمت دری اور خواتین پر مظالم کے معاملات کو فاسٹ ٹریک عدالتوں میں چلایا جائے اور مجرموں کو سرعام پھانسی دی جائے۔ آج بھی میں یہی مطالبہ دہراتی ہوں۔

انہوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ نہایت ہی افسوسناک ہے۔ میں اس کی سخت مذمت کرتی ہوں۔ میں مہاراشٹر حکومت سے سوال کرتی ہوں کہ جو حکومت اپنی "چاہتی بہنوں” کے لیے اتنا جذباتی اظہار کرتی ہے، وہ سوَرگیٹ کیس میں جو رویہ اختیار کیا گیا، کیا وہ درست ہے؟ حکومت کو سنجیدگی اختیار کرنی چاہیے، اور عہدے پر فائز شخصیات کو ذمہ داری سے گفتگو کرنی چاہیے۔ جو بھی خواتین کے خلاف نازیبا اور توہین آمیز بیانات دے رہے ہیں، انہیں معافی مانگنی ہوگی، ورنہ ہم ان کے گھروں کے سامنے احتجاج کریں گے۔

سپریا سولے نے کہا کہ بیڑ محنت کش عوام کا ضلع ہے، مگر گندی سیاست کی وجہ سے ملک میں پونے اور بیڑ کا نام بدنام کیا جا رہا ہے۔ کئی سنگین جرائم کرنے کے باوجود والمیک کراد اور اس کے سرپرستوں کے خلاف حکومت کارروائی کیوں نہیں کر رہی؟ وزیر اعلیٰ، وزراء کو اختیارات دیے بغیر خود ہر چیز پر کنٹرول قائم رکھے ہوئے ہیں۔ وزراء عوامی نمائندے ہیں، مگر ان کے اختیارات سلب کیے جا رہے ہیں۔ یہ حکومت کی آمرانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading