مہاراشٹر میں بڑھتی آبادی کے پیش نظر راشن کی تقسیم کا ہدف 7 کروڑ سے بڑھا کر 8 کروڑ 20 لاکھ کیا جائے

وزیر خوراک و رسد دھننجے منڈے کی مرکزی وزیر پرہلاد جوشی سے درخواست

نئی دہلی: مہاراشٹر میں راشن کی تقسیم کے موجودہ ہدف کو ریاست کی بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر 7 کروڑ 16 ہزار سے بڑھا کر 8 کروڑ 20 لاکھ 61 ہزار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے مہاراشٹر حکومت کے خوراک و رسد کے محکمے نے 2021 میں مرکزی حکومت کو تجویز ارسال کی تھی، جسے جلد از جلد منظوری دی جائے۔ اسی سلسلے میں ریاست کے خوراک و رسد کے وزیر دھننجے منڈے نے آج دہلی میں مرکزی وزیر برائے خوراک و شہری رسد پرہلاد جوشی سے ملاقات کی اور اس معاملے پر گفتگو کی۔

دھننجے منڈے نے اس ملاقات میں خوراک کی عوامی تقسیم کے نظام کو مزید مؤثر بنانے اور اس میں حائل تکنیکی و انتظامی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے مرکزی حکومت سے فوری اقدام کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے نیشنل فوڈ سیکیورٹی ایکٹ 2013 کے تحت مستحقین کے ہدف کو تازہ آبادی کے مطابق مقرر کرنے، آن لائن تقسیم کے نظام میں درپیش مشکلات کے ازالے، ای۔پوس مشینوں سے متعلق تکنیکی مسائل کے حل اور دیگر انتظامی امور پر تفصیلی گفتگو کی۔

اس دوران انہوں نے راشن کارڈ مینجمنٹ سسٹم (RCMS) کو مکمل طور پر فعال رکھنے کے لیے مرکزی سطح سے واضح ہدایات جاری کرنے پر بھی زور دیا۔ ملاقات میں فوڈ کارپوریشن آف انڈیا کے تحت زیرالتواء ادائیگیوں، CMR خریداری کی رقم کی واپسی اور ریلوے کے ذریعے اناج کی منتقلی میں درپیش مشکلات جیسے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے ریاستی وزیر دھننجے منڈے کو یقین دہانی کرائی کہ ان تمام امور کے حل کے لیے جلد ہی متعلقہ محکموں اور ریاستی حکومت کے درمیان ایک میٹنگ منعقد کی جائے گی اور اس مسئلے پر مثبت فیصلہ لیتے ہوئے ریاستی حکومت کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ دھننجے منڈے نے اس یقین دہانی پر مرکزی وزیر کا شکریہ ادا کیا۔

ریاست بھر میں اہلیہ بھون کی تعمیر کے عمل کو تیز کیا جائے – ادیتی تٹکرے

’پنک ای-رِکشا‘ اسکیم کے تحت 5 ہزار خواتین کو جلد رکشائیں فراہم کی جائیں گی

ممبئی: ریاست کے 18 اضلاع میں اہلیہ بھون کے قیام کا کام جاری ہے، جبکہ باقی اضلاع میں بھی ان مراکز کی تعمیر کے عمل کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی سلسلے میں خواتین و اطفال ترقی کی وزیر ادیتی تٹکرے نے متعلقہ محکمے کو ضروری ہدایات جاری کی ہیں تاکہ ان مراکز کے قیام میں مزید تاخیر نہ ہو۔

ادیتی تٹکرے نے کہا ہے کہ خواتین اور بچوں کے تحفظ، ان کے بااختیار بنانے اور مختلف سماجی مسائل کے حل کے لیے اہلیہ بھون ایک کلیدی کردار ادا کرے گا۔ خواتین اور بچوں سے متعلق جاری مختلف سرکاری اسکیموں کا آج انہوں نے منترالیہ میں جائزہ لیا، جہاں محکمے کے سکریٹری انوپ کمار یادو، کمشنر کیلاش پاگارے اور دیگر اعلیٰ افسران موجود تھے۔ اس موقع پر وزیر موصوفہ نے ہدایت دی کہ جلد ہی چار اضلاع میں اہلیہ بھون کا افتتاح کیا جائے اور ان مراکز کے لیے بنیادی ڈھانچے کی تیاری کو بھی جلد از جلد مکمل کیا جائے۔

وزیر ادیتی تٹکرے نے کہا کہ یہ مراکز خواتین، بچوں اور معذور افراد کے مسائل کے حل کے لیے ہمہ وقت فعال رہیں گے۔ خواتین کو باعزت روزگار دینے، انہیں معاشی و سماجی طور پر خودمختار بنانے اور ان کے محفوظ سفر کو یقینی بنانے کے لیے ’پِنک ای۔رِکشا‘ اسکیم کو جلد نافذ کرنے کی ہدایت بھی وزیر نے دی۔ اس اسکیم کے تحت موصول ہونے والی درخواستوں میں سے 5 ہزار اہل خواتین کو جلد ہی رکشائیں فراہم کی جائیں گی۔ علاوہ ازیں سڑکوں پر زندگی گزارنے والے بچوں کو تعلیم اور مرکزی سماجی دھارے میں شامل کرنے کے لیے ایک موبائل ٹیم سرگرم ہے، جس کے ذریعے اب تک 3 ہزار سے زائد بچوں کو تعلیمی نظام سے جوڑا جا چکا ہے۔ اس منصوبے کو مزید وسعت دینے کے لیے بھی فوری اقدامات کی ہدایت دی گئی ہے۔

ملازمت پیشہ خواتین کے بچوں کے لیے نرسری مراکز کے قیام کی ضرورت کے پیش نظر آنگن واڑی مراکز کے ساتھ مربوط پبلک ڈے کیئر سینٹرز قائم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ پبلک نرسری کارکنان، معاونین اور نربھیا کونسلنگ سینٹرز کے کوآرڈینیٹرز کی تنخواہوں میں اضافے کے حوالے سے بھی جلد مثبت فیصلہ لیا جائے گا۔ مزید برآں ثانوی تعلیم میں طالبات کی شمولیت بڑھانے کے لیے محکمہ تعلیم کے ساتھ مل کر مناسب اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading