مہاراشٹر کی اقتصادی و سماجی صورتحال پر تشویشناک: سپریہ سولے

سنتوش دیشمکھ قتل کیس میں اگر حکومت میں شامل افراد ہی سوال اٹھا رہے ہیں تو حکومت خاموش کیوں ہے؟

ممبئی: مہاراشٹر کی اقتصادی اور سماجی صورتحال میں مسلسل گراوٹ تشویشناک ہے۔ نیتی آیوگ کی تازہ رپورٹ نے اس حقیقت کو اجاگر کر دیا ہے۔ اس رپورٹ کی ذمہ داری ریاستی حکومت میں شامل تمام پارٹیوں کو قبول کرنی چاہیے اور اس پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے وائٹ پیپر جاری کیا جانا چاہیے۔ یہ مطالبہ این سی پی- ایس پی کی کارگذار صدر اور رکن پارلیمنٹ سپریہ سولے نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کیا۔

سپریہ سولے نے کہا کہ وہ گزشتہ ڈھائی برسوں سے جن خدشات کا اظہار کر رہی تھیں، آج نیتی آیوگ نے اپنی رپورٹ سے اس پر مہر لگا دی ہے۔ ریاست میں مالی نظم و ضبط کی نگرانی کے لیے مالی خسارے کا قانون نافذ ہے، جو اٹل بہاری واجپئی کی حکومت نے متعارف کرایا تھا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ مہاراشٹر کی اقتصادی صورتحال بدتر ہو رہی ہے اور ریاست مالی خسارے کے اعتبار سے تیسرے سے چھٹے نمبر پر پہنچ گئی ہے، جبکہ اوڈیشہ اور چھتیس گڑھ جیسی ریاستیں ترقی کی دوڑ میں آگے نکل چکی ہیں۔ دیگر ریاستیں مسلسل ترقی کر رہی ہیں، لیکن مہاراشٹر پیچھے کیوں جا رہا ہے، اس پر حکومت کو غور کرنا چاہیے۔

ریاستی حکومت کی صنعتی پالیسی پر سوال اٹھاتے ہوئے سپریہ سولے نے کہا کہ ڈاؤس میں مہاراشٹر کے ہی صنعتکاروں سے سرمایہ کاری کے معاہدے کیے گئے، لیکن کیا واقعی اس مقصد کے لیے ڈاؤس جانا ضروری تھا؟ اس طرح کے معاہدے ریاست کے اندر بھی کیے جا سکتے تھے۔

ریاست میں جرائم کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں 50 دن گزر جانے کے باوجود ایک قاتل کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ اگر وہ فرار ہے، تو کہاں گیا؟ کیا وہ مصنوعی ذہانت کے کسی نظام میں چھپ گیا؟ سنتوش دیشمکھ کے اہل خانہ کے جذبات اور ریاست کے انصاف کے نظام کا مذاق بنایا جا رہا ہے۔ اگر 50 دن بعد بھی ایک مجرم کا سراغ نہیں ملتا، تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگتا ہے۔ پورا مہاراشٹر متاثرہ خاندان کے لیے انصاف کا مطالبہ کر رہا ہے اور حکومت کو اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے سنتوش دیشمکھ اور سومناتھ سوریہ ونشی کے اہل خانہ کو انصاف فراہم کرنا چاہیے۔

بیڑ واقعے پر ریاستی حکومت کی پالیسی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر روز ٹی وی چینلز پر نئے شواہد سامنے آ رہے ہیں، اس کے باوجود حکومت مزید کس ثبوت کا انتظار کر رہی ہے؟ انیل دیشمکھ، سنجے راوت، نواب ملک اور چھگن بھجبل کو محض سنی سنائی باتوں پر برسوں جیل میں رکھا گیا، جبکہ سنتوش دیشمکھ قتل کیس میں ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ اگر حکومت میں شامل ہی افراد اس معاملے پر سوال اٹھا رہے ہیں، تو حکومت خاموش کیوں ہے؟ اس صورتحال میں انصاف کا تقاضا ہے کہ حکومت اپنی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری پوری کرے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading