سنجے راوت کو کانگریس اور شرد پوار گروپ کی ’بیساکھیاں‘ چھوڑ کر بالا صاحب ٹھاکرے کے نظریات کے مطابق چلنا چاہئے: آنند پرانجپے
تھانہ/ممبئی: ہندوتوا اور مراٹھی وقار کے نظریات اگر واقعی اہم ہیں تو سنجے راوت کو فوری طور پر کانگریس اور شرد پوار گروپ کی نیشنلسٹ کانگریس کی بیساکھیاں چھوڑ کر بالاصاحب ٹھاکرے کا وہ بیان یاد کرنا چاہئے کہ ’جس دن میری شیکوسینا کانگریس بن جائے گی، میں اپنا دفتر بند کر دوں گا۔‘ یہ مشورہ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (اجیت پوار) کے چیف ترجمان آنند پرانجپے نے دیا ہے۔
آر ایس ایس اور مراٹھی قومیت کے موضوع پر سنجے راوت کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے آنند پرانجپے نے کہا کہ ’بھانڈوپ کے بھونگے‘ یعنی سنجے راوت کو دوسروں کو مفت مشورے دینے سے قبل شیوسینا کے بانی کے نظریۂ ہندو تو اور مراٹھی وقار پر خود احتسابی کرنی چاہیے۔آنند پرانجپے نے روہت پوار پر بھی تنقید کی اور کہا کہ وہ قیادت کے لیے حد سے زیادہ بے چین شخصیت ہیں۔ انہیں دوسروں پر تبصرہ کرنے کے بجائے اپنے پارٹی میں جاری بکھراؤ اور ساتھ چھوڑ کر جانے والوں پر توجہ دینی چاہیے۔
سنگرام جگتاپ کے تعلق سے آنند پرانجپے نے کہا کہ وہ اجیت دادا پوار کی قیادت کے ماننے والے ایم ایل اے ہیں۔ اس لیے ان کی فکر روہت پوار کو کرنے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا روہت پوار جیوتشی ہیں؟ اجیت دادا پوار اور سنیل تٹکرے سنگرام جگتاپ کو مناسب رہنمائی دے چکے ہیں۔ آدتیہ ٹھاکرے پر حملہ کرتے ہوئے پرانجپے نے کہا کہ آدتیہ کو اب یاد آیا کہ ورلی میں 19 ہزار بوگس ووٹ درج ہیں۔ لیکن جب اروند ساونت جنوبی ممبئی سے لوک سبھا کی انتخابی مہم چلا رہے تھے تو اُس وقت یہ یاد کیوں نہیں آیا؟ لوک سبھا میں جیت حاصل کرنے کے بعد ووٹر لسٹ بالکل درست لگتی ہے، مگر اسمبلی میں بدترین شکست کے بعد وہی لسٹ بگڑی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے یہ مستقل طور پر کنفیوژن پھیلانے کی کوشش ہے۔
جیتندر اوہاڑ پر شدید تنقید کرتے ہوئے پرانجپے نے کہا کہ وہ دوہرے ناموں کے معاملے پر بات کرتے ہیں، مگر ان کے ہی اسمبلی حلقے میں 19 ہزار ڈپلیکیٹ نام موجود ہیں، جبکہ ممبرا-کلوا اور کلیان دیہی علاقوں میں 14 ہزار دوہرے ووٹر درج کیے گئے ہیں۔ اس پر انہوں نے کب آواز اٹھائی؟ انہوں نے اوہاڑ کو نوٹنکی باز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اپنے حلقے میں اپنی پارٹی کی حالت پہلے دیکھ لیں۔ ان کے ضلع صدر، یوتھ صدر، خود ان کے گھر کے سابق کارپوریٹر امیت سریّا اور کلوا کے نو میں سے سات کارپوریٹر اُن کا ساتھ چھوڑ گئے۔
