مہاراشٹر میں ہزاروں ووٹوں میں گھپلا سامنے آ رہا ہے، کیا الیکشن کمیشن سو رہا ہے؟: جیتندر آوہاڑ
ممبئی: انتخابی عمل کو آزاد، منصفانہ اور شفاف ہونا چاہئے، یہ بات سپریم کورٹ نے اپنے متعدد فیصلوں میں واضح کی ہے۔ لیکن تھانے میونسپل کارپوریشن کی نئی حلقہ بندی میں ان اصولوں کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے محض ایک سیاسی پارٹی کی سہولت کے مطابق وارڈز کی ازسرنو تشکیل کی گئی ہے۔ یہ سنگین بے ضابطگی انتخابی کمیشن کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں۔ یہ سخت الزام نیشنلسٹ کانگریس (شرد پوار) کے چیف ترجمان اور ایم ایل اے جیتندر اوہاڑ نے عائد کیا ہے۔
پارٹی دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اوہاڈ نے کہا کہ حکومت نے انتخابی کمیشن کو ساتھ ملا کر وارڈ بندی اپنی مرضی اور سیاسی مفاد کے مطابق کی ہے۔ جہاں جہاں حکمراں پارٹی کو سیاسی فائدہ تھا، وہاں حلقے جوڑ کر ووٹرز کی تعداد بدلتے ہوئے عوام کی سہولت کے بجائے سیاسی نفع کو ترجیح دی گئی ہے۔ اس معاملے پر ہائی کورٹ میں مختلف عرضداشتیں دائر ہو چکی ہیں۔ سپریم کورٹ نے 31 اکتوبر تک مہلت دی ہے مگر کئی درخواستوں پر اب تک فیصلہ نہیں ہو سکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی ڈی لیمیٹیشن (حلقہ بندی) میں بڑے پیمانے پر تضادات ہیں اور ریاست بھر میں شہری و دیہی علاقوں سے شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ ہر ضلع میں من مانی وارڈ بندی کی گئی ہے۔ انتخابی کمیشن اس میں سب سے بڑا شریکِ جرم ہے۔
اوہاڑ کے مطابق انتخابی کمیشن نے سپریم کورٹ کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی کی ہے۔ ریاست کے مختلف بینچوں کے سامنے 100 سے زیادہ درخواستیں زیرِ سماعت ہیں۔ الیکشن کمیشن کی پالیسی پوری طرح مشکوک ہے۔ انتخابی عمل پر ہمارا اعتماد بری طرح متزلزل ہو چکا ہے۔ انہوں نے حکومت اور انتخابی کمیشن دونوں پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مقامی باڈیز کے انتخابات جعلی اور باہر سے لائے گئے ووٹرز کی بنیاد پر جیتنے کا منصوبہ بنا لیا گیا ہے۔ کمیشن نے اپنا وجود گروی رکھ دیا ہے۔ اگر کمیشن صرف حکومت کی مرضی پر چل رہا ہے تو ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر نے آئین میں جو خود مختاری اسے دی تھی، وہ خاک میں مل چکی ہے۔
اوہاڑ نے انتخابی فہرستوں میں دھاندلی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر میں ہزاروں ووٹوں کا گھپلا ثبوتوں کے ساتھ سامنے آ چکا ہے۔ کیا الیکشن کمیشن سو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کیرالہ میں مقامی انتخابات کے دوران SIR (Special Intensive Revision) کیا جا رہا ہے، لیکن مہاراشٹر میں تمام اپوزیشن پارٹیاں شواہد پیش کر رہی ہیں پھر بھی کوئی کارروائی نہیں۔ اگر ووٹر لسٹ ہی دھاندلی سے بھری ہو تو ووٹنگ اور اس کے نتائج کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ جمہوریت مکمل طور پر خطرے میں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاملہ صرف تھانے تک محدود نہیں۔ مختلف عدالتوں میں عرضداشتیں داخل ہیں جنہیں یکجا کرکے سننے کا مطالبہ حکومت نے کیا ہے، الیکشن کمیشن نے نہیں۔ کمیشن کی اصل پوزیشن کیا ہے؟ یہ اب تک پوشیدہ ہے۔ اگر سپریم کورٹ کے احکامات کو کمیشن ٹھکرا رہا ہے تو صاف ظاہر ہے کہ وہ کس سیاسی جماعت کی مدد کر رہا ہے۔
NCP-SP Urdu News 28 Oct. 25.docx