ہمیں عدلیہ پر مکمل اعتماد ہے، وزیر زراعت مانک راؤ کوکاٹے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کریں گے
ممبئی: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے مرکزی ترجمان آنند پرانجپے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس سے مطالبہ کیا ہے کہ انجلی دمانیا کو وہ خفیہ اور حساس دستاویزات کیسے ملتی ہیں، جن تک عام طور پر کسی کی رسائی نہیں ہوتی اور آیا وہ دستاویزات اصلی ہیں یا جعلی؟ اس کی پولیس کے ذریعے تحقیقات کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ آئی ایف ایف سی او کے ذریعے خریدے گئے نینو یوریا اور خودکار اسپرے پمپ جیسے معاملات پر الزامات لگائے گئے تھے، لیکن اس پر اس وقت کے وزیر زراعت اور موجودہ وزیر خوراک و شہری رسد دھننجے منڈے نے وضاحت دی ہے۔ منگل کو بھی انجلی دمانیا نے دھننجے منڈے پر جعلی دستاویزات پیش کر کے منظوری حاصل کرنے کا سنگین الزام عائد کیا تھا، جس پر دھننجے منڈے نے اپنا موقف پیش کیا ہے۔
آنند پرانجپے نے مزید کہا کہ ریاستی کابینہ کے اجلاس کا ایجنڈا لیک ہونے پر وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ اس لیے جن دستاویزات پر چیف سیکریٹری اور زرعی سیکریٹری کے دستخط اور نوٹس موجود ہیں، ان کے ذرائع اور تصدیق کا پتہ لگانا ضروری ہے۔ جمہوریت میں الزامات عائد کرنے کا حق سب کو ہے، لیکن یہ کہنا کہ کوئی ذمہ دار وزیر جعلی دستاویزات تیار کرکے 200 کروڑ روپے کے معاملے کو منظوری دیتا ہے، یہ سراسر جھوٹا الزام ہے، جس کی ہم سختی سے تردید کرتے ہیں۔
آنند پرانجپے نے کہا کہ 1995 کے ایک معاملے میں اس وقت کے وزیر توکارام دگھولے نے کچھ دستاویزات میں مانک راؤ کوکاٹے اور ان کے بھائی پر رد و بدل کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ 30 سال بعد اس کیس میں غیر متوقع فیصلہ آیا ہے۔ لیکن ہمیں عدلیہ پر مکمل اعتماد ہے اور وزیر زراعت مانک راؤ کوکاٹے ممبئی ہائی کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔ ہمیں یقین ہے کہ ماتحت عدالت کے فیصلے پر روک لگے گی۔ یہ ایک عدالتی عمل ہے اور چونکہ ہمیں عدلیہ پر مکمل اعتماد ہے، اس لیے ان کے استعفے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
آنند پرانجپے نے مزید کہا کہ جب کوئی بندرگاہ یا ایئرپورٹ تعمیر ہوتا ہے تو اس علاقے کی ترقی تیز ہو جاتی ہے۔ چونکہ پالگھر ضلع کے وادھون میں ہندوستان کی سب سے بڑی بندرگاہ تعمیر ہو رہی ہے، اس لیے وہاں ایک بین الاقوامی ایئرپورٹ بنانے کا ارادہ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے ظاہر کیا تھا۔ اگر ریاستی حکومت اس سمت میں اقدامات کر رہی ہے تو نیشنلسٹ کانگریس پارٹی اس کا خیرمقدم کرتی ہے۔
آنند پرانجپے نے کہا کہ مہاکمبھ میلہ ملک کے تمام ہندوؤں کے لیے عقیدے اور عقیدت کا مسئلہ ہے، اس لیے اس پر تبصرہ کرتے وقت ہر کسی کو احتیاط کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ٹویٹ کرتے وقت اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ کسی بھی مذہب کے پیروکاروں کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے۔ مہاکمبھ میلہ ہندو عقیدے اور عقیدت کا معاملہ ہے، اس لیے اس پر غیر ضروری بیانات دینے سے گریز کیا جانا چاہیے۔
