مراٹھا اور او بی سی کو ایک دوسرے کے خلاف کرنے کی حکومت کی چال:جتیندر اوہاڈ
ممبئی:موجودہ حکومت کے ذریعے جس طرح ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تنازعہ پیدا کرکے ایک دوسرے کے خلاف کردیا گیا ہے بالکل اسی طرح مراٹھا اوراوبی سی کوبھی ایک دوسرے کے خلاف کیا جا رہا ہے۔ حکومت کے اس اقدام کی ہم این سی پی کی جانب سے مذمت کرتے ہیں۔ یہ باتیں این سی پی کے ایم ایل اے جتیندر اوہاڈ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہیں۔وہ پارٹی دفتر میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کررہے تھے۔
جتیندر اوہاڈ نے کہا کہ آج او بی سی سیل کے عہدیداروں کی میٹنگ ہوئی ہے۔ این سی پی کے قومی صدر شرد پوارکا او بی سی کمیونٹی کے لیے جو خدمات ہیں انہیں کبھی فراموش نہیں کیا جاسکے گا۔منڈل کمیشن کی شفارشات کو پورے ملک میں اگر کسی نے سب سے پہلے لاگو کیا تو وہ شردپوار صاحب نے کیاتھا۔ شرد پوار نے او بی سی طبقے کو 27 فیصد ریزرویشن دیا جس کی وجہ سے او بی سی طبقے سے آج مہاراشٹر میں کلکٹر، ڈپٹی کلکٹر جیسے مختلف عہدوں پر کئی آئی پی ایس افسران ہیں۔پوارصاحب نے بنجارہ، مالی، دھنگرجیسی برادریوں کوریزرویشن دے کر انہیں سیاسی نظام لانے کا اہم کام انجام دیا ۔
جتیندر اوہاڈ نے کہا کہ حکومت کے نمائندوں نے 75 سالہ بھجبل کو الگ تھلگ کردیااس پر دیگر وزراء نے احتجاج کیوں نہیں کیا؟جتیندر اوہاڈ نے کہا کہ چھگن بھجبل سے ہمارا نظریاتی اختلاف ہوا۔ بھجبل نے جس طرح شرد پوار صاحب کے بارے میں بات کی وہ آج بھی ہمیں ٹھیک نہیں لگتی ہے۔ دوسری جانب وزیر چھگن بھجبل کے بارے میں کابینہ میں وزیراعلیٰ کی پارٹی کا ایک وزیر جس طرح کی باتیں کی ہیں، اس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔اس طرح کی باتیں کرنا غیر آئینی ہیں۔ وہ کابینہ میں شامل ہیں۔ انہیں بھی کابینہ میں اس کا جواب دینا چاہئے ، لیکن ایسا لگتا ہے کہ کابینہ میں اوبی سی کا موقف بیان کرنے والے کم پڑرہے ہیں۔ بھجبل فیصلہ کریں، ہم سب ان کے ساتھ ہیں۔
جتیندر اوہاڈ نے مزید کہا کہ ہماری رائے واضح ہے کہ مراٹھوں کو ریزرویشن دیا جانا چاہیے، لیکن او بی سی کے ریزرویشن میں کوئی دخل دیے بغیر۔ ہم کوئی تنازعہ نہیں پیدا کرنا چاہتے۔ ہم نے تمام کارکنوں کو بتا دیا ہے کہ ہم ہزاروں سال سے ایک ساتھ رہے ہیں۔ ہم سب بہوجن ہیں۔یہ بہوجنوں کو آپس میں لڑانا چاہتے ہیں۔ کیونکہ اگر بہوجن متحد ہو جائیں تو اقتدار کسی اور جانب نہیں جاسکتا۔ اس لیے بہوجنوں اور مراٹھوں کو لڑانے کی کوشش کی جارہی ہے۔مراٹھا ریزرویشن کے سرکلر میں خونی رشتہ داروں کو بھی کنبی سرٹیفکیٹ دینے کے معاملے پر اوہاڈ نے کہا کہ فرض کیجئے کہ میری بیوی برہمن ہے۔ تو کیا اس کی بہن کو آپ ونجاری کے طور پر سرٹیفکیٹ دیں گے؟ کیا میری بیوی کے بچوں کو سرٹیفکٹ دیا جائے گا؟ یہ بھی توخونی رشتہ دار ہوئے نا؟ اس کے ساتھ ہی اگر کوئی پسماندہ طبقے کی عورت اونچی ذات سے شادی کرتی ہے تو اس کی ماں کی ذات کو شامل کیا جانا چاہیے۔