بی ایم سی کے دستاویزسے چھیڑچھاڑ کرکے1993میں سمیروانکھیڈے میں انہیں تبدیل کیا
ہم عدالت کے روبرو اصل دستاویز پیش کریں گے: نواب ملک
ممبئی:سمیر وانکھیڑے نے ممبئی میونسپل کارپوریشن کے دستاویزات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی اور 1993 میں دستاویزات کو تبدیل کیا۔وہاں کا رجسٹر بھی غائب تھا۔لیکن انہیں یہ بات نہیں معلوم تھی کہ کارپوریشن نے دستاویزات کو اسکین کیا تھا اور وہ اسکین شدہ دستاویز آج بھی کارپوریشن کے کمپیوٹر میں موجود ہے۔ہم کارپوریشن کے اصل دستاویزات عدالت کے روبرو پیش کریں گے۔ یہ اطلاع آج یہاں ایک پریس کانفرنس میں راشٹروادی کانگریس پارٹی کے قومی ترجمان واقلیتی امور کے وزیر نواب ملک نے دی ہے۔
نواب ملک نے اس موقع پر کہا کہ سمیر داؤد وانکھیڈے کی جعلسازی اب آہستہ آہستہ منظر عام پر آرہی ہے۔ ایک آئی پی ایس افسر جو سمیر وانکھیڑے کا پڑوسی تھے۔ ان کے اور وانکھیڈے کے درمیان کچھ تنازعہ ہونے کے بعد وانکھیڈے نے ان کے بیٹے کو27A کے تحت پھنسایا۔اس لڑکے نے اپنی ضمانت کی درخواست میں کہا ہے کہ این سی بی کا کوئی بھی افسر اس کے گھر نہیں آیا تھا، مجھے باہر بلایا گیا اور جھوٹا معاملہ بناتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔ نواب ملک نے کہا کہ جس لڑکے کو پھنسایا گیا ہے، اس کے والد آئی پی ایس افسر ہیں۔ وانکھیڈے نے ان کے پورے گھروالوں کو جیل میں ڈالنے کی دھمکی دی تھی۔
نواب ملک نے کہا کہ جس لڑکی کو سمیروانکھیڈے کو طلاق دیا تھااس کے بارے میں سمیروانکھیڈے کو خوف تھا کہ وہ کبھی بھی اس کے خلاف کھڑی ہوسکتی ہے۔ اس لئے سمیروانکھیڈے نے اس لڑکی کے کزن کے پاس ایک ڈرگ پیڈلر کے ذریعے ڈرگس پہنچاکر اسے پھنسادیا۔ ریاست کے اینٹی نارکوٹکس سیل کے ذریعے اس کے بھائی کو گرفتار کیا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے اس لڑکی کو دھمکی دی کہ اگر میرے خلاف کوئی گواہی دی توتمہارے پورے خاندان کو ڈرگ پیڈلر بناکر جیل میں ڈال دونگا۔
نواب ملک نے کہا کہ وانکھیڈے کے والد نے میرے خلاف سواکروڑ روپئے کا ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا ہے۔ انہوں نے عدالت سے میر ٹوویٹ کرنے پر روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اصل عرضداشت پر بعد میں شنوائی ہوگی۔ ہائی کورٹ میں اس معاملے کی سماعت ہوئی تھی۔ عدالت نے کہا کہ ایک ایم ایل اے اور ایک پارٹی کے قومی ترجمان کے طور پرمجھے اس معاملے کو گہرائی سے دیکھنا چاہئے۔ اس کے بعد ہم نے معاملے کی گہرائی میں جانے کی کوشش کی۔ ہم نے کارپوریشن کا تمام ریکارڈ چیک کئے۔ ہم نے وانکھیڈے کے اسکول میں داخلے سے لے کر اسکول چھوڑنے تک کے تمام دستاویزات جمع کیے ہیں۔ دستاویزات ہائی کورٹ کے جج کے روبرو پیش کردیئے گئے ہیں۔ ہائی کورٹ نے درخواست گزاروں کو یہ دستاویزات فراہم کرنے کے لئے کہا ہے۔ ہائی کورٹ اس پر سماعت کرے گا۔ ساتھ ہی میرے ٹویٹ پر پابندی کے مطالبے پر بھی سماعت ہوگی۔ اس کے بعدسواکروڑ روپے کے دعویٰ پر سماعت ہوگی۔
نواب ملک نے کہا کہ سچن وازے اور پرمبیر سنگھ نے ممبئی میں ہفتہ وصولی کا کاروبار شروع کیاتھا۔ اس کے ساتھ انٹالیا کے سامنے دھماکہ خیز اشیاء رکھنے کے ساتھ جو کچھ کیا اس سے حکومت لاعلم رہی۔ جب اسمبلی میں یہ معاملہ آیا تو ممبئی کمشنر نے وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ کو غلط معلومات دیں، لیکن جب سچائی سامنے آئی تو کمشنر کا تبادلہ کر دیا گیا۔تبادلے کے بعد اس کا احساس ہوتے ہی کہ یہ معاملہ آگے جائے گا اور تفتیش شروع کی جائے گی، بی جے پی کی مدد سے انیل دیشمکھ کے خلاف ای میل کے ذریعے شکایت کی گئی۔اس کے بعد کچھ لوگوں نے سی بی آئی کے ذریعے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرائی اور انل دیشمکھ کو مشکل میں ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ پوارصاحب نے کل یہ واضح کیا کہ آپ ہمیں چاہے جتنا پریشان کرلیں، آپ جو کچھ کر رہے ہیں ہم اس کا جواب دیں گے۔ انیل دیشمکھ کو پھنسانے کے لئے جعلسازی کی گئی۔سبھی لوگ دیکھ رہے ہیں کہ شکایت کرنے والا فرار ہوگیا ہے۔لیکن جلد یا بدیر اس معاملے کی سچائی عدالت کے سامنے آجائے گی۔