ممبئی: مہاراشٹر کے مفاد، مہاراشٹر کے سماجی توازن کو برقرار رکھنے نیز مراٹھا بمقابلہ او بی سی تنازعہ ختم کرنے کے لیے تمام سیاسی پارٹیوں کو اپنا موقف واضح کرنا چاہئے۔ اگر اپوزیشن پارٹیاں ایسا نہیں کرتی ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ دوہرا موقف رکھتی ہیں اور مراٹھا و او بی سی برادریوں کو گمراہ کر رہی ہیں۔ یہ باتیں آج یہاں این سی پی کے ترجمان امیش پاٹل نے کہی ہیں۔
این سی پی کے دفتر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے پارٹی کے ترجمان نے اپوزیشن پارٹیوں سے پوچھا ہے کہ او بی سی کوٹے سے مراٹھا برادری کو ریزرویشن دینے کے لیے ان کے پاس کون سا قانونی راستہ موجود ہے۔ اگر ان کے ہاتھ میں ایسا موقع ہوتا تو کیا وہ او بی سی سے مراٹھا برادری کو ریزرویشن دیتے؟ امیش پاٹل نے کہا کہ اپوزیشن پارٹیوں کو مہاراشٹر کو بتانا چاہیے کہ او بی سی کوٹے سے مراٹھا برادری کے ریزرویشن کے مطالبے کو لے کر ان کا کیا موقف ہے۔
این سی پی کے ترجمان نے کہا کہ ریاست میں سماجی توازن برقرار رکھنے کے لیےحکومت نے ایک میٹنگ طلب کیا تھا لیکن اپوزیشن نے قصداً اس میں شرکت نہیں کی۔ اگر وہ میٹنگ میں شامل ہوتے تو سب کا موقف سامنے آ جاتا۔ اس سے قبل کی آل پارٹی میٹنگ میں تمام پارٹیوں کے بڑے لیڈروں نے موقف اختیار کیا کہ او بی سی ریزرویشن کو ہاتھ لگائے بغیر مراٹھا برادری کو ریزرویشن دیا جانا چاہیے۔ اس پر امیش پاٹل نے ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ اپوزیشن بند کمرے میں الگ مطالبہ کرتا ہے اور عوام کے درمیان الگ موقف کا اظہار کرتا ہے جو قطعاً مناسب نہیں ہے۔
