10 بنیادی اشیاء کی دکانوں پر فروخت کی منظوری اور راشن ڈیلروں کے کمیشن میں اضافہ، اجیت پوار کی زیر صدارت اہم فیصلہ

ریاست کے 7 کروڑ عوام کو راشن فراہم کرنے والے ڈیلروں کو اب فی کوئنٹل 170 روپے کمیشن ملے گا، شہری رسد نظام کو شفاف، تیز اور باوقار بنانے پر زور

ممبئی: ریاست کے دیہی علاقوں میں 7 کروڑ سے زائد مستحق افراد کو راشن فراہم کرنے والے شدھا واٹپ (راشن) ڈیلروں کی دیرینہ مانگ کو بالآخر تسلیم کرتے ہوئے ریاستی حکومت نے فی کوئنٹل کمیشن میں 20 روپے کا اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب یہ کمیشن 150 روپے سے بڑھا کر 170 روپے فی کوئنٹل کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ریاست کے نائب وزیراعلیٰ اور خوراک و شہری رسد کے وزیر اجیت پوار کی صدارت میں منترالیہ (سیکریٹریٹ) میں منعقدہ ایک اہم میٹنگ میں لیا گیا۔

نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار کی زیر صدارت میں ہوئی اس میٹنگ میں یہ بھی طے پایا کہ مرکز کی منظوری سے نافیڈ (NAFED) کے تحت دستیاب 10 اہم اشیائے ضروریہ کو اب راشن دکانوں کے ذریعے فروخت کرنے کی اجازت دی جائے گی، تاکہ عام آدمی کو سستی اور معیاری گھریلو اشیاء بہ آسانی دستیاب ہو سکیں۔ ان فیصلوں کا راشن ڈیلروں کی مختلف تنظیموں نے پُرجوش خیر مقدم کیا ہے اور طویل عرصے سے زیر التوا مطالبات کو تسلیم کیے جانے پر انہوں نے نائب وزیراعلیٰ کا شکریہ ادا کیا ہے۔

واضح رہے کہ ملک بھر میں 80 کروڑ اور مہاراشٹر میں تقریباً 7 کروڑ افراد کو راشن دکانوں کے ذریعے سبسڈی والا اناج فراہم کیا جاتا ہے۔ مرکز کے تحت چلنے والے فوڈ کارپوریشن آف انڈیا (FCI) کے گوداموں سے لے کر ریاست کے دور دراز علاقوں تک یہ اناج ایک منظم نیٹ ورک کے تحت پہنچایا جاتا ہے۔ اس نیٹ ورک کو مزید مؤثر، تیز رفتار، شفاف اور عوام کے اعتماد کے قابل بنانے کے لیے ریاستی شہری رسد محکمہ، اجیت پوار کی قیادت میں سرگرمِ عمل ہے۔

اس مقصد کے لیے آج کی میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ راشن تقسیم کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔ اس میں اسمارٹ راشن کارڈ، الیکٹرانک وزن مشینیں، جی پی ایس ٹریکنگ اور لائیو مانیٹرنگ جیسے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا۔ مہاراشٹر کے لیے ایک جامع خریداری، تقسیم، کنٹرول اور نگرانی کا نظام تیار کیا جائے گا، جس کے لیے گجرات ماڈل کا بھی تفصیل سے مطالعہ کیا جائے گا تاکہ بہترین طریقہ کار اپنایا جا سکے۔

اس میٹنگ میں نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار نے یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ ریاست میں راشن سے متعلق زیر التوا معاملات پر فوری سماعت کی جائے گی اور جلد فیصلے کیے جائیں گے۔ انہوں نے سخت ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ دیہی علاقوں کے ہر راشن کارڈ ہولڈر کو منصوبہ بندی کے مطابق اناج فراہم ہونا چاہیے، اور اس میں کسی بھی قسم کی کوتاہی یا غفلت برتنے والے افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

میٹنگ میں یہ بھی فیصلہ لیا گیا کہ ممبئی اور تھانے کے شہری علاقوں میں راشن نظام کی ازسر نو تشکیل کی جائے گی، تاکہ ہر اسمبلی حلقے میں کم از کم ایک راشن دفتر قائم ہو۔ واضح رہے کہ اس سے قبل 1980 میں آخری بار راشن دفاتر کی تنظیمِ نو کی گئی تھی۔ اب نئی تشکیل کے تحت ممبئی اور تھانے میں ایک زونل آفس اور پانچ نئے راشن دفاتر قائم کیے جائیں گے، جس سے ان علاقوں کی شہری رسد کا نظام مزید مؤثر بن سکے گا۔ اجیت پوار نے اس موقع پر امید ظاہر کی کہ اس اقدام سے شہری علاقوں میں خوراک کا نظام بہتر، تیز تر اور عوام دوست بنے گا۔

اس اہم میٹنگ میں خوراک و ادویات کے وزیر نرہری جھروال، مالیات کے ایڈیشنل چیف سکریٹری او پی گپتا، نائب وزیراعلیٰ کے دفتر کے سکریٹری ڈاکٹر راجیش دیشمکھ، خوراک و شہری رسد و صارفین کے تحفظ کی سکریٹری جیشری بھوج، راشن کنٹرولر سدھاکر تیلنگ، متعلقہ محکموں کے اعلیٰ افسران اور راشن ڈیلروں کی انجمنوں کے عہدیداران و نمائندگان بڑی تعداد میں موجود تھے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading