وظیفہ اسکیموں کے نفاذ میں شفافیت اور توازن برقرار رکھنے کی حکومت کی کوشش؛ نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کی اسمبلی میں وضاحت
کمزور اور محروم طبقات کے طلبہ کے ساتھ مہایوتی حکومت، ترجیحی بنیادوں پر مدد فراہم کرنے کا عزم
ناگپور: ٹی آر ٹی آئی، بارٹی، سارتھی، مہاجیوتی اور امرت جیسی خود مختار اداروں کے ذریعے میرٹ رکھنے والے طلبہ کو وظیفے دیے جاتے ہیں۔ ان اعلیٰ تعلیمی وظیفہ اسکیموں کا فائدہ زیادہ سے زیادہ ضرورت مند اور محروم طبقات کے طلبہ تک پہنچانا مہایوتی حکومت کا مقصد ہے۔ اس کے لیے اسکیموں کے نفاذ میں شفافیت، مناسب معیارات اور طے شدہ رہنما اصول مقرر کیے جائیں گے۔ یہ جانکاری نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار نے اسمبلی میں دی۔
اسی دوران نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار نے واضح کیا کہ حکومت کا مقصد سماج کے معاشی طور پر کمزور اور محروم طبقات کے اُن زیادہ سے زیادہ طلبہ کی ترجیحی بنیادوں پر مدد کرنا ہے، جو بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے کی مالی استطاعت نہیں رکھتے۔
بارٹی کی وظیفہ اسکیم سے متعلق اسمبلی رکن ڈاکٹر نتین راؤت کی جانب سے اٹھائے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار نے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے ٹی آر ٹی آئی، بارٹی، سارتھی، مہاجیوتی اور امرت جیسی خود مختار اداروں کے ذریعے دی جانے والی وظیفہ اسکیموں کے بارے میں حکومت کو یہ شکایات موصول ہوئی ہیں کہ بعض مقامات پر ایک ہی خاندان کے ایک سے زیادہ طلبہ کو ان اسکیموں کا فائدہ مل رہا ہے۔ اس حوالے سے معلومات جمع کرنے کا عمل جاری ہے اور اس وقت ان اداروں کے نصف سے زیادہ فنڈز انہی وظیفہ اسکیموں پر خرچ ہو رہے ہیں۔ اس لیے دیگر ضرورت مند طلبہ کے لیے چلائی جانے والی اسکیموں پر فنڈ کی دستیابی متاثر نہ ہو، اس مقصد کے تحت ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ان خود مختار اداروں کے سالانہ عملی منصوبوں کی منظوری کے معاملے پر وزراء کی کابینہ میٹنگ میں طویل بحث ہوئی ہے اور اس بحث کے بعد لیے گئے فیصلے کے مطابق چیف سیکریٹری کی صدارت میں ایک میٹنگ منعقد کی گئی ہے۔ اس میٹنگ میں یہ ہدایت دی گئی ہے کہ اعلیٰ اور تکنیکی تعلیم کا محکمہ، یو جی سی کی جانب سے مقرر کردہ رہنما اصولوں پر سختی سے عمل کرتے ہوئے اعلیٰ تعلیمی وظیفہ اسکیموں کے معیارات طے کرے۔ اس میں طلبہ کی سالانہ تعلیمی پیش رفت کی جانچ کے بعد بقیہ گرانٹ تقسیم کرنے کے عمل کو شامل کرتے ہوئے اس کے مطابق کارروائی کرنے کی ہدایت تکنیکی تعلیم کے محکمے کو دی گئی ہے۔ وظیفے دیتے وقت ہر طبقے کے لیے مستفید طلبہ کی تعداد طے کرنے کے حوالے سے پالیسی سطح پر فیصلہ کیا جائے گا۔ اسی کے ساتھ یہ بھی واضح رہنما ہدایات تیار کی جائیں گی کہ کس تعلیمی مرحلے پر کتنے طلبہ کو فائدہ دیا جانا ہے۔ مہایوتی حکومت کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ وظیفہ اسکیموں کا فائدہ زیادہ سے زیادہ ضرورت مند اور محروم طبقات کے طلبہ تک پہنچے۔ وظیفہ منظور کرتے وقت متعلقہ تعلیمی کورسز کا ریاست اور سماج کی ترقی میں کردار، نیز طلبہ کی قابلیت اور معاشی حالت کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے، یہ بات بھی نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار نے کہی۔
میں کسی بھی طبقے کے ساتھ ناانصافی ہونے نہیں دیتا۔ میرے کام کا انداز سب کو معلوم ہے۔ سماج کے محروم طبقات کے وہ طلبہ جن کے والدین کی مالی حالت کمزور ہے مگر وہ میرٹ میں ہیں، ایسے طلبہ کی مدد کو مہایوتی حکومت ترجیح دیتی ہے، ان کی مدد کرتی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔ مذکورہ اداروں کو 30 مارچ تک جلد از جلد فنڈ کیسے تقسیم کیے جا سکتے ہیں، اس کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے، اس کے ساتھ ساتھ بقیہ فنڈ بھی ریگولر بجٹ میں شامل کر کے فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی اجیت دادا پوار نے کرائی۔