ستارا ضلع کے ساوری گاؤں میں ممبئی کرائم برانچ کو کیا ملا؟

وزارتِ داخلہ اس پورے معاملے پر وضاحت کرے: ہرش وردھن سپکال

پولیس نے کس کو گرفتار کیا؟ ملزم، ساوری گاؤں کے تیجس لاج اور تھانے کے شیو سینا کے کارپوریٹر پرکاش شندے کے درمیان کیا تعلق ہے؟

ممبئی: ستارا ضلع کے جاولی تعلقہ میں واقع ساوری گاؤں میں ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے چھاپہ مارا ہے، مگر اس کارروائی کے حوالے سے غیر معمولی رازداری برتی جا رہی ہے۔ یہ سوال کرتے ہوئے کہ اس کارروائی میں کیا برآمد ہوا؟ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے وزارتِ داخلہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس پورے معاملے کی واضاحت کرے۔

اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے 9 دسمبر کو دو منشیات اسمگلروں کو گرفتار کیا تھا۔ تفتیش میں انہوں نے بتایا کہ وہ میفیڈرون پونے کے وِشال مورے نامی شخص سے حاصل کرتے تھے۔ ممبئی پولیس نے وِشال مورے کو گرفتار کرنے کے لیے جال بچھایا اور میفیڈرون خریدنے کا بہانہ بنا کر 12 دسمبر کو پمپری۔چنچوڑ علاقے میں اسے دو کلو میفیڈرون کے ساتھ گرفتار کر لیا۔

تفتیش میں اس نے بتایا کہ وہ ستارا ضلع کے جاولی تعلقہ کے ساوری گاؤں میں میفیڈرون تیار کرتا تھا۔ اس کے بعد پولیس نے ساوری گاؤں میں چھاپہ مارا، جہاں مویشیوں کے باڑے میں ایک شیڈ بنا کر میفیڈرون تیار کیا جا رہا تھا۔ یہ جگہ بامنولی کے گووند شِمکر نامی شخص کی تھی، جسے ساوری میں رہنے والے اونکار دیگھے کے ذریعے مورے کو کرائے پر دیا گیا تھا۔ پولیس نے وہیں سے تین مزدوروں کو گرفتار کیا جو مغربی بنگال کے رہنے والے ہیں۔ سپکال نے مزید کہا کہ ساوری گاؤں کے اس باڑے میں میفیڈرون تیار کرنے والے ان تین بنگالی مزدوروں کے لیے اونکار دیگھے گاؤں کے تیجس لاج سے کھانا لا کر دیتا تھا۔ ساوری گاؤں کا یہ تیجس لاج تھانے کے شیو سینا کے کارپوریٹر پرکاش شندے کی ملکیت ہے۔ یہ لاج ڈیڑھ ماہ قبل شروع ہوا تھا اور پرکاش شندے نے اسے دارے گاؤں کے رنجیت شندے کو چلانے کے لیے دیا تھا۔

جس جگہ ساوری گاؤں میں چھاپہ مارا گیا، کیا وہ کسی نائب وزیر اعلیٰ کے قریبی شخص یا رشتہ دار کی ہے؟ کیا وہاں منشیات کی فیکٹری چل رہی تھی؟ نقلی نوٹوں کا کارخانہ؟ جادو ٹونا؟ یا کوئی اور غیر قانونی دھندا؟ ممبئی کرائم برانچ اور سینئر پولیس افسران وہاں کیوں پہنچے؟ ستارا ضلع کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بھی فوراً وہاں پہنچے اور آخر انہیں وہاں سے کیا ملا؟ اس پورے معاملے کی جانکاری دبا کر حکومت آخر کیا چھپانے کی کوشش کر رہی ہے؟ اس واقعے کو لے کر شکوک و شبہات مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ ہرش وردھن سپکال نے مطالبہ کیا ہے کہ وزارتِ داخلہ کو فوراً اس کی وضاحت کرے۔

MPCC Urdu News 13 December 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading