NCP Urdu News 11 May 23

ملک میں جمہوریت کو بچانے کے لیے ایک ساتھ آنے کی ضرورت ہے: شردپوار

اقتدار کا مسلسل بے دریغ استعمال کیا جارہا ہے، ہم اس کے خلاف ہیں

گورنروں کا انتخاب کتنا غلط طریقے سے کیا جاتا ہے، اس کی تازہ مثال مہاراشٹر نے دیکھاہے

مجھے نہیں لگتا کہ اخلاقیات اور بی جے پی کا کوئی آپسی تعلق ہے

ممبئی: ملک میں جمہوریت کو بچانے کے لیے ایک ساتھ آنے اورمل کر کام کرنے ضرورت ہے۔ ہم ایک متحد ہوکر کام کریں گے اور اتحاد کا چہرہ بعد میں ٹھہرایا جائے گا۔ اس واضح موقف کا اظہار آج یہاں این سی پی کے قومی سربراہ شردپوار نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کیا ہے۔آج بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار اور نائب وزیر اعلی تیجسوی یادو نے شردپوار سے ان کی رہائش گاہ سلور اوک میں ملاقات کی اور میڈیا سے بات کی۔

اس موقع پر شردپوار نے کہا کہ آج بہار کے وزیر اعلیٰ جناب نتیش کماراور نائب وزیر اعلی جناب تیجسوی یادو نے ممبئی میں ملاقات کی اور اپوزیشن اتحاد کے بارے میں بات چیت کی۔ آج ملک میں جو ماحول ہے اس کو دیکھتے ہوئے ملک کی جمہوریت کو بچانے کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جو صورتحال پورے ملک میں نظر آرہی ہے اس میں ہم مل کر کام کریں گے تو لوگ یقینا ساتھ دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کل کرناٹک انتخابات ہوئے ہیں۔ جہاں تک میری معلومات ہے کرناٹک کے عوام بی جے پی کو ہٹا کر سیکولر حکومت بنانے کے لیے آگے بڑھیں گے۔ یہ صرف کرناٹک تک ہی محدود نہیں ہے تو ملک کے بڑے حصے میں یہی صورتحال ہے۔ لیکن اگر ہم اس صورتحال میں کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں مل کر کام کرنا چاہیے۔ مجھے خوشی ہے کہ نتیش کمار صاحب نے آج جس چیز کی ضرورت ہے اسے پورا کرنے کا مشن اپنے ہاتھ لیا ہے۔ انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے ہمارے کئی ساتھیوں کے ساتھ بات چیت کی اور آج مہاراشٹر کے ساتھیوں کو بھی اسی طرح آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔شردپوار نے کہا کہ کانگریس کے صدر ملکا رجن کھرگے، راہل گاندھی، نتیش کمار اور دیگر سیکولر پارٹیوں کے لوگ جب دہلی میں ملاقات کیے تھے تب اسی موضوع پر بات چیت ہوئی تھی۔ نتیش کمار صاحب نے ساتھ مل کر چلنے کا جو عمل شروع کیا ہے میں اس کا خیر مقدم کرتا ہوں۔

اس موقع پر شردپوار نے کہا کہ جن پر آئین کے تحفظ کی ذمہ داری ہوتی ہے انہیں اس کا تقدس برقرار بھی رکھنا چاہئے۔شردپوار نے کہا کہ جس طرح جینت پاٹل کو ای ڈی کی نوٹس آئی ہے اسی طرح دیگر لوگوں کی بھی آئی ہے۔ ہم انتظار کرتے ہیں کہ مزید نوٹسیں کب آئیں گی۔ اقتدار کے غلط استعمال کی یہ واضح علامت ہے جس کے خلاف ہم لڑیں گے۔

شردپوار نے کہا کہ گورنر کا انتخاب کس طرح غلط طریقے سے کیا جاتا ہے، اس کی بہترین مثال مہاراشٹر نے دیکھا ہے۔ گورنر کا عہدہ ایک آئینی عہدہ ہوتا ہے،اس عہدے کے تقدس کو مہاراشٹر میں پامال کیا گیا۔ خوش قسمتی سے وہ گورنرصاحب آج یہاں نہیں ہیں، اس لیے اس پر مزید تبصرہ کرنا مناسب نہیں، لیکن اس سے یہ ضرور واضح ہوتا ہے کہ گورنر کی تقرریوں کے وقت جس معیار کا لحاظ رکھنا چاہئے تھا، انہیں جان بوجھ کر نظر انداز کیا گیا اور اس بات کو پیشِ نظر رکھ کر ایک خاص نظریے وسوچ کے شخص کو گورنر بنایا گیا کہ وہ کس طرح دیگر عوامی نمائندوں یا پارٹیو ں کو پریشان کریں۔

شردپوار نے کہا کہ عدالتی فیصلے کے بعد بی جے پی کے خلاف مہم چلانا آسان ہو جائے گا لیکن جس پارٹی کے نام پر منتخب ہوتے ہیں اس کا حکم اہم ہوتاہے۔اس لیے اخلاقیات وبی جے پی کے درمیان کوئی تعلق ہے، ایسا مجھے نہیں لگتا ہے۔شردپوارنے یہ بھی کہا کہ میرا مہاراشٹرا دورہ جاری رہے گا اور اب ہم تینوں پارٹیاں ایک ساتھ مل کر کام کریں گے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading