’یوگی بمقابلہ مودی ‘کورونا دور کی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے بی جے پی کی منصوبہ بند حکمت عملی

مرکز کی جانب سے ویکسی نیش کا ڈاٹاظاہر نہ کرنے کے حکم پر نواب ملک کی شدید تنقید

ممبئی: ملک اور اتر پردیش میں گذشتہ کچھ دنوں سے مودی اور یوگی کے مابین اختلافات کی خبریں آرہی ہیں، لیکن راشٹروادی کانگریس پارٹی کے قومی ترجمان اور اقلیتی امور کے وزیر نواب ملک کاکہنا ہے کہ کوروناکے دوران کی اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی یہ بی جے پی کی ایک منصوبہ بند حکمت عملی ہے۔

نواب ملک نے کہا ہے کہ کورونا دور میں نہ صرف پورے ملک بلکہ دنیا نے اتر پردیش میں کورونا سے فت ہونے والوں کی لاشوں کو گنگا ندی میں پھینکے جانے کی خوفناک تصویر یں دیکھیں۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی اپنی صریح ناکامی کو چھپانے کے لئے یوگی کے خلاف مودی کو پیش کرنے کی منصوبہ بند حکمت عملی کے تحت کام کررہی ہے۔ گزشتہ چار سالوں کے اپنے دورِ حکومت میں یوگی نے ریاست میں بجائے نفرت پھیلانے اور سیاسی انتقام کارروائی کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ عوام فلاح وبہبود کی کوئی ایسی اسکیم انہوں نے نافذ نہیں کی جس سے ریاست کی عوام کوکوئی فائدہ پہنچے۔

نواب ملک نے یہ الزام بھی لگایا کہ کورونا کے دور میں سرکاری رقم کو بڑے پیمانے پر اشتہارات پرخرچ کیا گیا ہے۔ بی جے پی کواب یہ یقین ہوچلا ہے کہ اترپردیش میں آنے والے اسمبلی انتخابات میں وہ ہار جائے گی جس نے اس کی پریشانیوں میں اضافہ کردیا ہے۔ لیکن اترپردیش کی جوصورت حال سامنے آرہی ہے اس نے اس بات کو یقینی بنادیا ہے کہ اترپردیش سے بی جے پی حکومت ختم ہوجائے گی۔وہاں کی عوام میں یوگی حکومت اوربی جے پی کے تئیں زبردست ناراضگی ہے اور اس ناراضگی کورونا دور میں اس کی نااہلی نے مزید بڑھا دیا ہے۔ اس لیے بی جے پی اپنی ناکامیوں ونااہلیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے اور لوگوں کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے لیے یوگی بمقابلہ مودی کی حکمت عملی تیار کی ہے، لیکن بی جے پی کو یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ ملک وریاست کی عوام اس کی تمام چالوں کو اب بخوبی سمجھنے لگی ہے اور عوام کی اس کی توقع سے کہیں زیادہ سمجھدار ہے۔

دریں اثناء نواب ملک نے مرکز کی جانب سے ریاستوں کو دی گئی اس ہدایت پر بھی سخت تنقید کیا ہے کہ کورونا ویکسی نیشن سے متعلق اعداد وشمار عوامی طور پر منکشف نہ کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ بات عوام سے کیوں پوشیدہ رکھی جائے کہ مرکز کی جانب سے ہمیں کتنے ویکسین دیئے گئے ہیں اورہم نے کتنے لوگوں کو ویکسین دیا؟ مرکزی حکومت کو خود ہر ہفتے ویکسی نیش سے متعلق اعداد وشمار کو ملک کے سامنے پیش کرنا چاہئے۔اسے بتانا چاہئے کہ کس ریاست کو کتنے ویکسین دیئے گئے ہیں اور ان ریاستوں نے کتنے لوگوں کو ویکسین لگایا۔اس سے کورونا سے روک تھام کی کوششوں میں شفافیت آئے گی اور لوگوں کو حقیقی صورت حال کا علم ہوگا۔

نواب ملک نے کہا کہ معلومات کوعوام سے چھپاکر کورونا کو شکست نہیں دی جا سکتی۔ مرکزی حکومت نے جون تک 12کروڑ ویکسین کی فراہمی کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کو دس دن گزرچکا ہے اوراب گیارہواں دن آگیا لیکن مرکزی حکومت کی طرف سے کیا گیا اعلان ابھی تک پورا نہیں ہوا۔سچائی یہ ہے کہ مرکزی حکومت جو بھی اعلان کرتی ہے، وہ صرف اعلان ہی رہ جاتا ہے، پورا نہیں ہوتا۔مرکزی حکومت ویکسین فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ نواب ملک نے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے ویکسی نیشن کے اعداد وشمار کو عوام سے چھپانے کی جو وجہ بتائی جارہی ہے کہ اس سے مارکیٹنگ کمپنیوں کو فائد ہوگا، کوئی سچائی نہیں ہے۔ بلکہ اس سے ملک کی عوام کو یہ معلوم ہوگا کہ کورونا کی روک تھام کے لیے ہم کس حدتک کوشش کررہے ہیں اور اس میں مرکزی حکومت کا تعاون کس حد تک ہے۔