منی پور میں پانچ سیٹوں پرلڑے گی جبکہ اترپردیش وگوا میں اتحادکی کوششیں جاری ہیں

80 فیصد کو اپنے ساتھ اور 20 فیصد کو دور سمجھنا کسی وزیراعلیٰ کو زیب نہیں دیتا

ممبئی: پانچ ریاستوں کے انتخابات کے اعلان کے بعد اب ملک میں سیاسی ماحول کافی گرم ہوچکا ہے۔ اس پس منظر میں این سی پی نے بھی اپنی کمرکس لی ہے۔ این سی پی کے قومی سربراہ شردپوار نے اعلان کیا ہے کہ این سی پی پانچ میں سے تین ریاستوں میں الیکشن میں حصہ لے گی۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی کے ساتھ اتحاد کریں گے جبکہ گوا میں مہاوکاس اگھاڑی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

این سی پی کے ریاستی دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے این سی پی صدر شردپوار نے کہا کہ گوا میں تبدیلی کی ضرورت ہے اور وہاں کی رائے عامہ بی جے پی کے خلاف ہے۔ اس لیے اس ریاست میں متحدہ طور پر الیکشن لڑنے کے لیے ترنمول کانگریس اور کانگریس کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ شرد پوار نے یہ بھی واضح کیا کہ کانگریس، ترنمول کانگریس اور چھوٹی پارٹیاں ان تینوں ریاستوں میں مل کر لڑیں گی۔انہوں نے کہا کہ منی پور میں این سی پی کے چار ایم ایل اے ہیں، اس لیے این سی پی اس بار پانچ سیٹوں پر الیکشن لڑے گی۔ شردپوار نے کہا کہ وہ اگلے ہفتے خود اتر پردیش جائیں گے۔اتر پردیش میں این سی پی، سماج وادی پارٹی اور دیگر چھوٹی بڑی پارٹیوں کا اتحاد قائم ہوا ہے۔کل لکھنؤ میں ان تمام پارٹیوں کی میٹنگ ہونے والی ہے اور اس میٹنگ میں سیٹوں کے بٹوارے کا اعلان کیا جائے گا۔شرد پوار نے کہا کہ اتر پردیش میں لوگ تبدیلی چاہتے ہیں، اس لیے تبدیلی آکر رہے گی۔

اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے 80/اور20فیصد والے بیان پر تنقید کرتے ہوئے شردپوار نے کہا کہ وزیراعلیٰ سب کا ہوتا ہے پھر چاہے وہ 80فیصد ہوں یا 20فیصد۔ لیکن آدتیہ ناتھ نے یہ کہہ کر کہ 80فیصد لوگ ہمارے ساتھ ہیں اور20فیصد نہیں ہیں، پولرائزیشن کی کوشش کی ہے۔ شردپوار نے کہا کہ وزیراعلیٰ کا یہ کہنا کہ 20فیصد لوگ ہمارے ساتھ نہیں، یہ اقلیتوں کے جذبات کو مجروح کرنے والابیان ہے۔ اس طرح کے بیانات وزیراعلیٰ کے عہدے پربیٹھے ہوئے شخص کو زیب نہیں دیتا ہے۔ لیکن جو ان کے دلوں میں ہے وہی ان کی زبان پر بھی ہے۔ ان کی ذہنیت ہی یہی ہے۔ اس سے ایک بات ثابت ہوتی ہے کہ اگر ملک میں یکجہتی اوراتحاد کو برقرار رکھنا ہے تو اس طرح کے فرقہ پرستانہ ذہنیت کا بڑھنا کسی طور مناسب نہیں ہے۔ اترپردیش کی عوام اس کے خلاف یقینا اپنا فیصلہ دے گی اور ریاست میں تبدیلی آئے گی۔شردپوار نے کہا کہ ہمارا یہ ماننا ہے کہ گوا میں بی جے پی کی حکومت ہٹائے جانے کی ضرورت ہے اور متحدہ طور پر کوئی موثرقدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ میری پارٹی کی جانب سے پرفل پٹیل، شیوسینا کی جانب سے سنجے راؤت اور کانگریس کے لیڈران کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔

دریں اثنا اتر پردیش کے کانگریس کے اقلیتی لیڈر سراج مہندی نے آج این سی پی میں شمولیت اختیار کی جن کا استقبال کرتے ہوئے شردپوار نے کہا کہ آج اتر پردیش کے حالات کافی بدل چکے ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ وہ اتر پردیش کی قانون ساز کونسل کے رکن تھے۔ وہ کئی سالوں سے گاندھی نہرو کے نظریے پر کام کر رہے ہیں۔ وہ کانگریس پارٹی میں کئی ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں۔ انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے اب این سی پی کے ساتھ کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اتر پردیش کو سب کے ساتھ تبدیلی کی ضرورت ہے۔ ہم خیال جماعتوں کو ساتھ لانے اور ان کا متبادل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ سراج مہندی این سی پی میں شامل ہو رہے ہیں۔ اتر پردیش کے کئی اضلاع میں ان کے ساتھی ہیں، میں بھی اتر پردیش جاؤں گا اور ان کے ساتھ لوگوں سے خطاب کروں گا۔شردپوار نے کہا کہ آج اتر پردیش کے کابینی وزیر سوامی پرساد موریہ نے وزارت سے استعفیٰ دے کر سماج وادی پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ ان کے ساتھ کچھ اور بھی ایم ایل اے بی جے پی چھوڑنے والے ہیں، اس لیے اس بار اتر پردیش میں تبدیلی آنی یقینی ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اتر پردیش کی عوام سے جو وعدے کیے تھے، ان میں کوئی سچائی نہیں تھی،اس لیے اب بہت سے لوگ بی جے پی چھوڑ کر تبدیلی لانے کے لئے آگے آرہے ہیں۔

وزیراعظم مودی کی سیکوریٹی کے بارے میں شردپوار نے کہا کہ گزشتہ روزہی سپریم کورٹ نے ان کی سیکورٹی کے معاملے میں ایک آزاد انکوائری کمیٹی مقرر کی تھی۔ اس سے پتہ چل جائے گا کہ حقیقت کیا ہے۔ میرے خیال میں وزیراعظم کا عہدہ ایک ادارہ ہے۔ اس کے لیے چاہے مرکز ہویا ریاست ہو، سکیورٹی کی ذمہ داری لینی چاہیے۔چونکہ سپریم کورٹ نے انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے اس لئے معاملے پر کوئی تبصرہ مناسب نہیں ہوگا۔اس پریس کانفرنس میں ریاستی صدر اور آبی وسائل کے وزیر جینت پاٹل، چیف قومی ترجمان اور اقلیتی امور کے وزیر نواب ملک، قومی یوتھ صدر دھیرج شرما، قومی اسٹوڈنٹ صدر سونیا دوہن اور سراج مہندی موجود تھے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔ 


اپنی رائے یہاں لکھیں