ممبئی: ملک میں سب سے زیادہ ٹیکس اداکرنے والی ریاست مہاراشٹر کے ساتھ مرکزی حکومت کی ناانصافی کی روایت کو مرکزی وزیرخزانہ نرملاسیتارمن نے اس سال کے بجٹ میں بھی برقرار رکھا ہے۔ رواں مالی سال میں مرکزی حکومت نے کل 2 لاکھ 20 ہزار کروڑ روپئے مرکزی جی ایس ٹی جمع کیا، جس میں سے تقریباً 48ہزار کروڑ روپے مہاراشٹر سے وصول کیا گیا ہے۔
اس مرکزی جی ایس ٹی کے بدلے میں مہاراشٹر کو صرف ساڑھے پانچ ہزار کروڑ روپے واپس ملے۔ فنڈ کی تقسیم میں بھی ناانصافی اس بار کے بجٹ میں بھی واضح طور پر نظر آرہی ہے۔ اس بجٹ میں مہاراشٹر کے حصے میں کیا آیا ہے؟ انتہائی تلاش کے بعد بھی اس کا پتہ لگانا مشکل ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے پیش کردہ بجٹ پر یہ تنقید آج یہاں ریاست کے نائب وزیراعلیٰ ووزیرمالیات اجیت پوار نے کیا ہے۔
نائب وزیر اعلیٰ نے تمام پارٹیوں کے ممبرانِ پارلیمنٹ سے اپیل کی ہے کہ وہ مرکزی وزیرخزانہ سے ملاقات کرکے مرکزی بجٹ میں مہاراشٹر کے ساتھ ہوئی ناانصافی کو دورکرنے کی کوشش کریں۔انہوں نے کہا کہ اس سال کا بجٹ پچھلے بجٹ کی طرح’بے معنی‘ ہے۔ ہر سال 2 کروڑ نوکریوں کا وعدہ پورا کرنے میں ناکام رہنے کے بعد مرکزی حکومت کی جانب سے اب 60 لاکھ نوکریوں کا نیا خواب دکھایا گیا ہے۔ ایل آئی سی کے آئی پی او کا اعلان ایک منافع بخش سرکاری کمپنی کی نجکاری کی طرف ایک قدم ہے۔ یہ دعویٰ کرنا کہ یہ بجٹ اگلے 25 سال کی ترقی کا بلیو پرنٹ ہے، بے معنی ہے۔سچائی یہ ہے کہ اس بجٹ کے ذریعے پانچوں انتخابی ریاستوں کی عوام کے دل جیتنے کی ایک ناکام کوشش کی گئی ہے۔
اجیت پوار نے کہا کہ دفاعی شعبے میں خود انحصاری کا اعلان کرنے والی مرکزی وزیر خزانہ کواس بات کا جواب دینا چاہیے کہ گزشتہ آٹھ سالوں میں مرکزی حکومت نے اس سمت میں کیا کیا؟ایسا لگتا ہے کہ ’میک ان انڈیا‘،’آتم نربھر بھارت‘ کے اعلان کی ہی مانند اس بات کے بجٹ میں کئے گئے وعدے کو بھی فراموش کردیا جائے گا۔اس بجٹ میں مہنگائی کم کرنے اور روزگار بڑھانے کے لیے کسی ٹھوس پروگرام کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔ کارپوریٹ ٹیکس 18 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد کر دیا گیا، لیکن انکم ٹیکس کی حد میں اضافے اور ٹیکس کی شرح میں کمی کرنے کے بارے میں کوئی اعلان نہیں کیا گیا ہے جس کی وجہ سے متوسط طبقے کے ملازمین اور عام ٹیکس
دہندگان کے ہاتھ ایک بار پھر مایوسی ہی لگی ہے۔ بجٹ میں موبائل اور الیکٹرانکس اشیاء کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا گیا ہے۔ ہیرے کے زیورات سستے ہو گئے۔لیکن پٹرول، ڈیزل اورکوکنگ گیس جیسی ضروری اشیاء پر ٹیکس کم کرنا مرکزی حکومت اپنی سہولت کے مطابق بھول گئی۔ اس سے مرکزی حکومت کی ترجیحات کا اندازہ ہوتا ہے۔ غریبوں کے لیے غذائی اجناس اور کسانوں کودی جانے والی سبسڈی کم کرنے کا فیصلہ سخت ناانصافی ہے۔ اس سے غریب، محروم طبقات اور کسان بری طرح متاثر ہوں گے۔
اس بجٹ سے نوجوانوں، کسانوں ومتوسط طبقے کسی کو بھی کچھ نہیں ملا
یہ بجٹ ملک کا ہے یا آئی ٹی ڈپارٹمنٹ کا؟: نواب ملک کا سوال
ممبئی: متوسط و محنت کش طبقے کو اس بات کی آس تھی کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے اس بجٹ میں ٹیکس میں کچھ رعایت ملے گی لیکن اس بجٹ میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے اور نوجوانوں، کسانوں ومتوسط طبقے کو کچھ بھی نہیں ملا۔ مرکزی حکومت کے پیش کردہ بجٹ پر یہ تنقید آج یہاں این سی پی کے قومی ترجمان واقلیتی امور کے وزیر نواب ملک نے کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس بجٹ میں ڈیجیٹل پروگرام کا اعلان زیادہ کیا گیا۔ ٹیکنالوجی کا استعمال حکومتیں کرتی رہتی ہیں لیکن اگر بجٹ ہی ٹیکنالوجی کی بنیاد پرپیش ہونے لگے تو عوام کے دلوں میں یہ سوال پیدا ہونالازمی ہے کہ یہ ملک کا بجٹ ہے یا ٹیکنالوجی ڈپارٹمنٹ کا؟ نواب ملک نے کہا کہ نریندر مودی نے 2014 میں ہر سال 2 کروڑ لوگوں کو روزگار دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن آج کے بجٹ میں تین سالوں میں 60 لاکھ لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کی بات کہی گئی۔ مودی نے یہ بھی کہا تھا کہ 2022 تک ملک میں ہر شخص ٹیکس سے آزاد ہوجائے گا۔توگویا ۲کروڑ لوگوں کو سالانہ روزگار فراہم کرنے اور ہرشخص کو ٹیک سے آزاد کرنے کا وعدہ بھی جملہ ہی تھا۔ نواب ملک نے یہ بھی کہا کہ کسانوں کی آمدنی 2022 تک دوگنی کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا اور اب وہ کہہ رہے ہیں کہ کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ملک کی سب سے قابلِ اعتماد کمپنی ایل آئی سی ہے، اس کا آئی پی اونکال کراسے فروخت کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مودی حکومت ملک کے اثاثے بیچ کر ملک چلانے کے پروگرام پر عمل کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر اس بجٹ سے کسی بھی طبقے کو کوئی راحت نہیں دی گئی ہے جس سے لوگوں میں اس بجٹ سے زبردست مایوسی ہوئی ہے۔