• 425
    Shares

ممبئی: ممبئی گواکروز پر ڈرگس پارٹی میں چھاپہ مارکر نارکوٹکس کنٹرول بیورو(این سی بی) نے 1300؍لوگوں میں سے 11؍لوگوں کو اپنے قبضے میں لیا تھا لیکن ان میں سے 3لوگوں کو بعد میں اس نے کیوں رہا کردیا؟ یہ سوال کرتے ہوئے این سی پی کے قومی ترجمان واقلیتی امور کے وزیر نواب ملک نے یہ سنسنی خیزالزام عائد کیا ہے کہ جن 3لوگوں کو رہا کیا گیا تھا ان میں ایک ریشبھ سچدیوابھی ہے جو بی جے پی کے لیڈر موہت کمبھوج کا سالا ہے اور دہلی کے دباؤ کے بعد اسے چھوڑ دیادیاگیا۔

واضح رہے کہ نواب ملک نے گزشتہ کل ہی این سی بی وبی جے پی کے بارے میں مزیدانکشافات کرنے کا اعلان کیا تھا جس کی وجہ سے اس پریس کانفرنس پرتمام میڈیا کی نگاہیں لگی ہوئیں تھیں۔ نواب ملک نے 6؍اکتوبرکو بھی ایک پریس کانفرنس میں این سی بی وبی جے پی کنکشن کو بے نقاب کیا تھا اور آج کے پریس کانفرنس میں انہوں نے بی جے پی یووامورچہ کے موہت کمبھوج کے سالے ریسبھ سچدیوا، پرتک گابھا اور عامر فرنیچروالاکواین سی بی کے ذریعے قبضے میں لے کر چھوڑنے کا ویڈیومیڈیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے سنسنی پھیلادی۔

نواب ملک نے کہا کہ کروز پر1300؍لوگوں پر چھاپہ مارا گیا تھا اوریہ چھاپہ 12؍گھنٹے تک جاری رہا۔ ان 13؍سولوگو ں میں سے 11؍لوگوں کو حراست میں لیا گیا اورانہیں این سی بی کے دفتر لایاگیا۔ لیکن ان میں سے3لوگوں کو دہلی کے حکم پر چھوڑ دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کروز پر چھاپہ دراصل منصوبہ بند طریقے سے کیا گیا ایک فرضی چھاپہ تھا جس میں سلیبریٹیز کو بلاکر انہیں مشکلات میں ڈالنے کا منصوبہ تیار کیا گیاتھا۔ اس لئے این سی بی کے زونل ڈائریکٹر سمیروانکھیڈے کو اس بات کی وضاحت کرنی چاہئے کہ انہوں نے تین لوگوں کو کیوں اور کس کی ہدایت پر چھوڑا گیا۔

نواب ملک نے کہا کہ رشبھ سچدیو اکا جب چھوڑا گیا تو اس کے والد اور چچا اس کے ساتھ تھے۔یہی نہیں بلکہ دیگر دو کے رشتہ دار بھی این سی بی کے دفتر میں آے تھے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چھوڑے گئے لوگوں کے رشتہ دار کس طرح این سی بی کے دفتر میں آئے؟ اس لئے اگر ممبئی پولیس نے ریشبھ سچدیوا کے والد وچچا نیزسمیر وانکھیڈے کا کال ڈٹیل چیک کرے تو پوری سچائی سامنے آجائے گی۔ مرکز کے بی جے پی لیڈران کے دباؤ کی وجہ سے ان تینوں کو چھوڑا گیا ہے۔ این سی بی کی کارروائی میں ابتداء سے ہی بی جے پی کنکشن تھا جو واضح ہوگیا ہے۔ یہ سب عدالت میں ثابت ہوگا لیکن یہ سازش ومنصوبہ بندی عوام کی عدالت میں بھی آنی چاہئے اس لئے میں یہ باتیں میڈیا کے سامنے رکھ رہا ہوں۔

اپوزیشن لیڈر پروین دریکر کے اس بیان کا جواب دیتے ہوئے کہ اگر کوئی شکایت ہے تو این سی بی کو بتایا جائے، نواب ملک نے کہا کہ بھلا یہ کیونکر ممکن ہے کہ جس ایجنسی کے بارے میں شکایت ہے وہ اسی ایجنسی کے روبرورکھا جائے؟ میں نے جوسوال اٹھائے ہیں وہ حق بجانب اورقانون کے مطابق ہیں۔ میرا مطالبہ ہے کہ اس کی جانچ کے لئے کوئی کمیشن تشکیل دیا جائے۔این سی بی نے پریس کانفرنس کے ذریعے میرے ذریعے اٹھائے گئے سوالات کو یہ کہہ کر رد کردیا ہے کہ میں اپنے داماد کی گرفتاری کی وجہ سے این سی بی سے سوالات کررہا ہوں۔جبکہ میں شروع دن سے ہی یہ کہتا آرہا ہوں کہ مجھے عدالت پر پورا اعتماد اور قانون پربھروسہ ہے۔قانون سب کے لئے یکساں ہے پھروہ چاہے کوئی بھی ہو۔ میرا داماد عدالت میں اپنی بے گناہی ثابت کرے گا۔ جب میں نے پہلی بار این سی بی کی کارروائی پر سوال اٹھایا تو کہا گیا کہ عدالت جاکر انصاف طلب کیجئے۔ اب ہم سوال اٹھارہے ہیں تو داماد کی گرفتاری کا حوالہ دیا جارہا ہے۔ اس لئے این سی بی کا یہ الزام مضحکہ خیز ہے۔نواب ملک نے کہا کہ چونکہ یہ معاملہ انتہائی سنگین ہے اس لئے میں وزیراعلیٰ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اس پر خصوصی توجہ دیں۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔