دہلی کی خفیہ طاقتوں کے ہاتھوں مرکزی تحقیقاتی اداروں کا غلط استعمال
این سی پی شرد چندر پوار کی کارگزار صدر اور رکن پارلیمنٹ سپریا سولے کا بی جے پی پر سخت حملہ
پونے:جمہوریت میں ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے دیے ہوئے آئین کے ذریعے شفاف انتخابات کا انعقاد ہونا چاہیے۔ اسی مقصد کے لیے ہم مہا وکاس اگھاڑی اور اپنی اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر مہم چلا رہے ہیں۔ یہ بات نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کی صدر اور رکن پارلیمنٹ سپریا سولے نے پونے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
سپریا سولے نے گفتگو کے دوران کہا کہ راجدیپ سردیسائی کی حالیہ کتاب میں ایک سنگین دعویٰ کیا گیا ہے جس پر میں پارلیمنٹ میں بھی متعدد بار بات کر چکی ہوں۔ میں نے اپنے خطابات میں کئی مرتبہ نشاندہی کی ہے کہ تحقیقاتی اداروں کا ناجائز استعمال کرکے سیاسی پاریٹوں کو توڑنا اور اپوزیشن لیڈروں کے گھروں میں مداخلت کرنا خفیہ طاقتوں کی جانب سے ملک بھر میں ایک منظم سازش کے تحت جاری ہے جو کہ غیر آئینی اور گناہ کے مترادف ہے۔ یہ ایک نہایت ہی سنجیدہ مسئلہ ہے۔ ان اداروں کے ذریعے اپوزیشن کو کمزور کرنا اور لوگوں پر دباؤ ڈالنا ان خفیہ طاقتوں کے ذریعے جان بوجھ کر کر رہی ہیں۔ ای ڈی اور سی بی آئی کے تقریباً 95 فیصد کیسز صرف اپوزیشن جماعتوں کے خلاف ہیں اور اس پہلو کا بھی کتاب میں حوالہ دیا گیا ہے جس کا ذکر سپریا سولے نے کیا۔
دیویندر فڈنویس کو براہِ راست چیلنج دیتے ہوئے سپریا سولے نے کہا کہ جس وقت اور جس جگہ آپ چاہیں، جتنے کیمرے چاہیں لے آئیں میں آپ مباحثے کے لیے تیار ہوں۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ چھگن بھجبل نے جو لکھا ہے اگر اس میں کوئی بات غلط ہو تو دیویندر فڈنویس کو وضاحت پیش کرنی چاہیے۔ سپریا سولے نے مزید کہا کہ اپوزیشن جماعتوں اور ان کے لیڈروں نیز ان کے اہل خانہ پر دباؤ ڈالنے کے لیے تحقیقاتی اداروں کا استعمال خفیہ طاقتوں کی جانب سے مسلسل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ان خفیہ طاقتوں نے ان کی تین بڑی بہنوں رجنیش اندولکر، نیتا پاٹل اور وجیا پاٹل کے گھروں پر پانچ دن تک انکم ٹیکس کے چھاپے مار کر انہیں اور ان کے خاندان کو دباؤ میں رکھا۔ اسی طرح سنجے راؤت، نواب ملک اور انیل دیشمکھ کے اہل خانہ کو بھی تنگ کیا گیا، جس کا میں نے ذاتی طور پر مشاہدہ کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دیویندر فڈنویس نے ان شخصیات پر لگائے گئے الزامات کی جانچ کے سلسلے میں سازش کے تحت تحقیقات شروع کروائی۔ آر آر پاٹل کے حوالے سے آخری تحقیقات کی فائل پر بھی فڈنویس کے بطورِ وزیرِ اعلیٰ دستخط ہیں۔ انہوں نے اجیت دادا پوار کو طلب کرکے یہ فائل دکھائی۔ سپریا سولے نے کہا کہ فڈنویس کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے کیونکہ انہوں نے ریاست کو دھوکہ دیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ تحقیقات کی فائلیں فڈنویس کے گھر تک کیسے پہنچیں اور اگر پہنچیں بھی تو انہیں فائلیں ان افراد کو دکھانے کا حق کس نے دیا جن پر الزامات لگائے گئے تھے؟