پونے: این سی پی- ایس پی کی کارگزار صدر اور رکن پارلیمنٹ سپریا سولے نے کہا ہے کہ مہاراشٹر میں ہفتہ وصولی، بدعنوانی اور غنڈہ گردی کے خلاف وہ پوری طاقت کے ساتھ لڑیں گی۔ این سی پی- ایس پی کے تمام اراکینِ پارلیمنٹ اس معاملے کو لے کر مرکزی وزیرِ داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کریں گے اور بجٹ اجلاس میں بدعنوانی، غنڈہ گردی اور ہفتہ وصولی جیسے مسائل کو شدت کے ساتھ اٹھائیں گے۔ وہ پونے میں صحافیوں سے گفتگو کر رہی تھیں۔
سپریا سولے نے مساجوگ گاؤں کے سرپنچ سنتوش دیشمکھ کے قتل کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں ملزم کرشنا آندھلے گزشتہ 51 دنوں سے فرار ہے، لیکن حکومت اس کی گرفتاری کے معاملے میں کوئی جواب نہیں دے رہی۔ اسی کے ساتھ انہوں نے انکشاف کیا کہ سماجی کارکن انجلی دمانیہ نے ’آفس آف پرافٹ‘ کے معاملے میں نائب وزیرِ اعلیٰ کو دستاویزی ثبوت دیے ہیں، جن پر وزیرِ اعلیٰ فیصلہ لینے والے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بیڑ میں فصل بیمہ گھوٹالہ اور بارامتی لوک سبھا حلقے میں ہارویسٹر اسکیم میں بڑے پیمانے پر کرپشن ہوا ہے۔ ریاستی وزیرِ زراعت مانک راؤ کوکاٹے نے خود اس بدعنوانی کا اعتراف کیا ہے، جس کے مطابق یہ گھوٹالہ سابقہ حکومت کے دور میں ہوا تھا۔ حکومت کے پاس اس گھوٹالے سے متعلق مکمل معلومات موجود ہیں، لہٰذا انہیں عوام کے سامنے لایا جانا چاہیے۔ سپریا سولے نے مزید کہا کہ رکنِ اسمبلی دَھس نے بوگس بلوں کے بارے میں انکشاف کیا ہے، اس لیے انہیں اخلاقی طور پر استعفیٰ دے دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ انجلی دمانیہ کی جانب سے کیے گئے الزامات پر پونے کے نگراں وزیر اور نائب وزیرِ اعلیٰ نے وزیرِ اعلیٰ کو فیصلہ لینے کا اختیار دیا ہے۔ اب دیکھنا ہوگا کہ وزیرِ اعلیٰ اس معاملے میں کیا فیصلہ لیتے ہیں۔ بیڑ میں ہونے والی ڈی پی ڈی سی میٹنگ میں ان تمام معاملات پر گفتگو ہونی چاہیے، کیونکہ بیڑ کے رکنِ پارلیمنٹ بجرنگ سونوَنے نے اس مسئلے کو نمایاں طور پر اجاگر کیا ہے۔ سپریا سولے نے زور دے کر کہا کہ جب تک بیڑ اور پربھنی کے سومناتھ اور سنتوش کو انصاف نہیں ملتا، وہ خاموش نہیں بیٹھیں گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مہاراشٹر کے وزیرِ اعلیٰ اور دونوں نائب وزرائے اعلیٰ ان معاملات میں فوری انصاف فراہم کریں۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو بہتر طبی سہولیات مہیا کرانے کی ذمہ داری پونے میونسپل کارپوریشن اور مہاراشٹر حکومت کی ہے۔ وہ پانی کے محصول میں اضافے کی اجازت نہیں دیں گی اور اگر حکومت نے پانی کے بل میں اضافہ کیا تو وہ سخت احتجاج کریں گی۔ سپریا سولے نے مزید کہا کہ حکومت کے پاس میٹرو اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے کروڑوں روپے ہیں، تو پھر غریب اور محنت کش مریضوں کی صحت کے لیے تھوڑی رقم مختص کرنے میں کیا قباحت ہے؟ اگر انسان ہی نہ رہے تو ان بنیادی سہولیات کا کیا فائدہ؟