مادھوی پُری بچ کی بدعنوانیوں سے کروڑوں ہندوستانی سرمایہ کاروں کی اربوں کھربوں کی سرمایہ کاری خطرے میں
ممبئی: کانگریس پارٹی نے سیبی میں بے ضابطگیوں اور گھوٹالوں کے خلاف مسلسل آواز اٹھائی اور تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا، لیکن مرکزی حکومت نے ہمیشہ سیبی چیئرپرسن اور افسران کا تحفظ کیا۔ اب ممبئی کی خصوصی عدالت نے شیئر بازار میں گھوٹالے اور ملی بھگت سے بدعنوانی کے الزامات کے تحت سیبی کی سابق چیئرپرسن مادھوی پُری بچ اور دیگر پانچ افسران کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم انسدادِ رشوت ستانی محکمے کو دیا ہے۔ اس معاملے پر مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے مطالبہ کیا کہ مرکزی حکومت اب تو سیبی میں ہونے والے سلسلہ وار گھوٹالوں کی جانچ کر کے قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کرے۔
اس معاملے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا ہے کہ مادھوی پُری بچ کا پورا کیریئر تنازعات سے بھرا رہا ہے، ان پر مسلسل گھوٹالوں کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ سیبی کی چیئرپرسن رہتے ہوئے بھی مادھوی پُری بچ اور ان کے شوہر دھول بچ پر الزام تھا کہ انہوں نے اڈانی گھوٹالے سے وابستہ کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی تھی، جس کا انکشاف ہنڈن برگ رپورٹ میں کیا گیا تھا۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے حکم سے شروع ہونے والی اڈانی گروپ کے خلاف تحقیقات کو بھی متاثر کرنے کی کوشش کی تھی۔ کانگریس پارٹی نے بھی اس معاملے میں شواہد پیش کر کے تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ مادھوی پُری بچ کی وجہ سے کروڑوں بھارتی عوام کی محنت سے کمائی گئی کھربوں روپے کی سرمایہ کاری خطرے میں پڑ گئی تھی، لیکن حکومت نے اپنے قریبی افراد کو بچانے کے لیے ان کے تمام جرائم کو نظرانداز کر دیا۔ اب جبکہ عدالت نے حکم جاری کر دیا ہے، حکومت کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے، اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائے اور سرمایہ کاروں کے مفادات کا تحفظ کرے۔
کسانوں کے مختلف مسائل پر بی جے پی-یوتی حکومت کے خلاف ریاستی کانگریس کا ریاست گیر احتجاج
منگل 4 مارچ کو میونسپل کارپوریشن کی حدود میں کانگریس کا حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا
ممبئی: مہاراشٹر پردیش کانگریس کے صدر ہرش وردھن سپکال کی ہدایت پر ریاست کے مختلف اضلاع میں آج کسانوں کے مسائل کے لیے احتجاج کیا گیا۔ بی جے پی-یوتی حکومت کسان دشمن ہے اور انتخابی مہم کے دوران کسانوں سے کیے گئے وعدوں کو مسلسل نظرانداز کر رہی ہے۔ اسی بے حسی کے خلاف کانگریس نے ریاست بھر میں احتجاج کرتے ہوئے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
احتجاج کے دوران کسانوں کے مکمل قرض معافی، مناسب بجلی کی فراہمی، فصل بیمہ اور زرعی آلات پر جی ایس ٹی کی منسوخی، کسانوں کو ڈرپ سبسڈی کی فوری ادائیگی، سویابین کے کم از کم امدادی قیمت میں فرق کی تلافی، شمسی پمپوں کی فوری تقسیم، زرعی پیداوار کو ایم ایس پی دینے اور دودھ کی قیمتوں میں اضافہ جیسے اہم مسائل پر بی جے پی حکومت کے خلاف تحریک چلائی گئی۔
لاتور ضلع کانگریس کمیٹی اور رکن پارلیمان ڈاکٹر شیواجی کالگے کی قیادت میں سخت احتجاج کیا گیا۔ اس دوران ضلع صدر شری شیل اُٹگے سمیت تمام فرنٹل تنظیموں کے ضلع صدور، تعلقہ صدور، عہدیداران، کارکنان اور کسان بڑی تعداد میں موجود تھے۔ چھترپتی سنبھاجی نگر میں رکن پارلیمان ڈاکٹر کلیان کالے کی سربراہی میں حکومت کے خلاف جلوس نکالا گیا۔ کسانوں کی فصلیں تباہ ہو رہی ہیں اور ان کی پیداوار کو مناسب قیمت نہیں مل رہی، جس کے باعث وہ خودکشی پر مجبور ہیں۔ کسانوں اور خواتین کو تحفظ کی ضمانت دی جائے، ورنہ حکومت کے خلاف شدید احتجاج ہوگا، یہ انتباہ دیا گیا۔ اس موقع پر سابق وزیر انیل پاٹل، نام دیو پوار، پرکاش موگدیا، سیوا دل کے ریاستی صدر ولاس اوتاڈے، ضلع بینک کے نائب صدر کرن پاٹل ڈونگاؤںکر سمیت بڑی تعداد میں کارکنان اور رہنما موجود تھے۔
بلڈانہ میں ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر اور سابق ایم ایل اے راہول بوندری کی قیادت میں ہزاروں کسانوں اور کارکنان نے حکومت کے خلاف جلوس نکالا۔ اس دوران کسانوں کے قرض معاف کرنے کا مطالبہ کیا گیا، جیسا کہ بی جے پی نے انتخابات میں وعدہ کیا تھا۔ پردیش کانگریس کے جنرل سیکریٹری شام اُمالکر، سابق ایم ایل اے راجیش ایکڑے سمیت کانگریس کے کئی رہنما اور کارکن احتجاج میں شریک ہوئے۔ اس کے بعد کانگریس کے وفد نے ضلع کلکٹر کو یادداشت بھی پیش کی۔
ناندیڑ میں کسانوں کے مسائل اور میونسپل کارپوریشن کے غیر ذمہ دارانہ رویے کے خلاف کانگریس نے رکن پارلیمان پروفیسر رویندر چوہان کی قیادت میں سخت احتجاج کیا۔ اس موقع پر سابق ایم ایل اے ہنومنت راؤ پاٹل بیٹ موگریکار، ضلع صدر بی آر قدم، شہر صدر عبدالستار، خواتین کانگریس کی صدر ریکھا تائی چوہان، سابق میئر جے شری تائی نلیش پاوڑے، کروناتائی جمداڈے، دیگر عہدیداران اور کارکنان موجود تھے۔
کسانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف دھاراشیو میں ٹریکٹر ریلی نکالی گئی۔ ریاست اور مرکز کی بی جے پی حکومت کسانوں کے مسائل کو نظرانداز کر رہی ہے، جس کے خلاف سینکڑوں کسان اپنے ٹریکٹروں کے ساتھ احتجاج میں شامل ہوئے۔ بعد ازاں ضلع کلکٹر کو یادداشت پیش کی گئی۔ چندرپور ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر اور سابق ایم ایل اے سُبھاش دھوٹے کی قیادت میں بھی کسانوں کے مسائل پر احتجاج کیا گیا، جہاں بڑی تعداد میں رہنما اور کسان شریک ہوئے۔ ریاست کے دیگر اضلاع میں بھی احتجاجی مظاہروں کے ذریعے کسان دشمن بی جے پی-یوتی حکومت کی مذمت کی گئی۔ جبکہ 4 مارچ (آج) میونسپل کارپوریشن کی حدود میں مختلف مسائل پر مزید احتجاج کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
