پونے: ’سرپرست وزیر کے عہدے پر ناراضگی اور ضد کرنا آپ کا ذاتی معاملہ نہیں۔ عوام نے آپ کو کام کرنے کے لیے منتخب کیا ہے، یہ آپ کے گھر کی کہانی نہیں ہے۔‘ ان سخت الفاظ میں این سی پی-ایس پی کی کارگزار صدر اور رکن پارلیمنٹ سپریا سولے نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ وہ پونے میں میڈیا سے گفتگو کر رہی تھیں۔
سپریا سولے نے کہا کہ ریاستی حکومت کو اب کام شروع کرنا چاہیے۔ مہاراشٹر کی مالی حالت کیا ہے؟ کسانوں اور عوام کو درپیش کتنے سنگین مسائل ہیں؟ ان پر ریاستی حکومت بات کرنے کو تیار نہیں۔ عوام نے آپ کو آپس میں جھگڑنے کے لیے منتخب نہیں کیا بلکہ عام شہریوں کی زندگی میں بہتری لانے کے لیے منتخب کیا ہے۔ یہ کہ کون کس کا سرپرست وزیر ہے اور کس کو کون سا محکمہ دیا گیا ہے، یہ گھر کے مسائل نہیں ہیں۔ یہ ملک اور ریاست کی خدمت کا معاملہ ہے۔
سپریا سولے نے مزید کہا کہ سرپرست وزیر کے عہدے پر ناراضگی کا مظاہرہ کرنا اور ضد کرنا کسی کے ذاتی معاملات نہیں ہو سکتے۔ ریاست میں مہنگائی، بے روزگاری، کرپشن اور جرائم جیسے مسائل کے بجائے حکومت صبح کے وقت ہونے والی حلف برداری کی باتیں کر رہی ہے۔ مہاراشٹر میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے وزیر اعلیٰ کو تمام پارٹیوں کی ایک میٹنگ طلب کر کے ایک سازگار ماحول بنانا چاہیے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سپریا سولے نے ایڈز کی بیماری کے بارے میں اپنا نظریہ تبدیل کرنے کے لیے کہا۔ انہوں نے کہا کہ افواہوں کو پھیلانے سے گریز کرنا چاہیے۔ اگر کسی شخص کو کوئی بیماری لاحق ہو تو اس کا علاج کیا جانا چاہیے۔ افواہیں پھیلا کر کسی کو تنہا نہ کیا جائے۔ کسی بھی وجہ سے کسی خاندان کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونی چاہیے۔ ایڈز ایک ایسی بیماری ہے جو مختلف وجوہات سے پھیلتی ہے۔ اس کے شکار افراد کو تنہا کرنے کے بجائے ان کا ساتھ دینا چاہیے۔ معاشرے کو ان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ دنیا میں ایسے کئی لوگ ہیں جو ایڈز کے شکار ہیں، اس لیے ان معاملات کو سنجیدگی اور حساسیت کے ساتھ سنبھالنا چاہیے۔