تٹکرے خاندان کے خلاف استعمال کی گئی زبان غیر مہذب، قابل مذمت اور شرمناک ہے
ممبئی: این سی پی کے چیف ترجمان آنند پرانجپے نے ایک پریس کانفرنس میں واضح طور پر کہا ہے کہ پارٹی کے صدر سنیل تتکڑے اور وزیر ادیتی تتکڑے پر کسی بھی قسم کی ذاتی تنقید ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تتکڑے خاندان کے خلاف استعمال کی جانے والی زبان نہ صرف قابل مذمت اور شرمناک ہے بلکہ یہ مہا یوتی اتحاد کی اقدار کو بھی ٹھیس پہنچاتی ہے۔
رائگڑھ کی نگراں وزیر کی حیثیت سے ادیتی تتکڑے کی تقرری پر شیوسینا کے شندے گروپ کی جانب سے کی گئی تنقید اور مظاہروں کے پس منظر میں آنند پرانجپے نے حکومت کے فیصلے کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو فیصلے سے اختلاف ہے تو اسے پارٹی قیادت کے سامنے اٹھانا چاہیے، نہ کہ غیر قانونی مظاہروں کے ذریعے۔
پرانجپے نے رائگڑھ میں ممبئی-گوا ہائی وے بلاک کرنے اور ٹائر جلانے جیسے مظاہروں کو غیر آئینی اور جمہوری اقدار کے خلاف قرار دیا۔ انہوں نے وزیر بھرَت گوگاولے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آئینی عہدے پر رہتے ہوئے ایسے اقدامات کرنا غیر ذمہ دارانہ ہے، خاص طور پر جب وزیر اعلیٰ کے پاس داخلہ امور کا قلمدان بھی ہو۔ انہوں نے کہا کہ رائگڑھ جو چھترپتی شیواجی مہاراج کے سوراج کا دارالحکومت تھا، وہاں ایسی غیر مہذب حرکتیں انتہائی افسوسناک ہیں۔ آنند پرانجپے نے شیواجی مہاراج اور جیجا بائی کے ذریعہ خواتین کی عزت و توقیر کے اصولوں کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ادیتی تتکڑے نے نہ صرف بطور وزیر بلکہ ضلع پریشد کی صدر کے طور پر بھی اپنی اہلیت کو ثابت کیا ہے۔
پرانجپے نے کہا کہ ادیتی تتکڑے نے قدرتی آفات کے دوران میدان میں آکر عوام کی خدمت کی اور مہا وکاس اگھاڑی حکومت کے دوران شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے خاص طور پر ’ماجھی لاڈکی بہین یوجنا‘ کی تعریف کی، جس کے تحت 2.35 کروڑ خواتین کو ہر ماہ 1500 روپے فراہم کیے گئے۔ اس اسکیم کی کامیابی میں ادیتی تتکڑے کا کردار اہم تھا۔
آنند پرانجپے نے بھرَت گوگاوالے، مہندر دلوی، اور مہندر تھورَوے کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی شکایات وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے یا ڈپٹی وزیراعلیٰ دیویندر فڈنویس کے سامنے رکھیں۔ لیکن سنیل تتکڑے اور ادیتی تتکڑے پر ذاتی حملے کرنے کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس پریس کانفرنس کے دوران این سی پی کے ترجمان سنجے تتکڑے، یوتھ صدر سورج چوہان اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔