NCP-SP Urdu News 20 July 25

ایم ایل اے روہت پوار پر جھوٹا مقدمہ، اصل سچائی چھپانے اور کردار کشی کی کوشش

نیشنلسٹ یوتھ کانگریس شردپوار کا شدید احتجاج

ممبئی: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار) کے ممبر اسمبلی روہت پوار کے خلاف ممبئی کے آزاد میدان تھانے میں پولیس سے مبینہ بدسلوکی کے الزام میں درج کیا گیا مقدمہ ایک منظم سیاسی انتقامی کارروائی ہے، جس کا مقصد اصل حقیقت کو چھپانا اور ایک منتخب عوامی نمائندے کی شبیہ کو داغدار کرنا ہے۔ نیشنلسٹ یوتھ کانگریس نے اس کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے جانبدارانہ اور متعصبانہ رویے کی علامت قرار دیا ہے۔

نیشنلسٹ یوتھ کانگریس شرد پوار کے ممبئی صدر ایڈووکیٹ امول ماتیلے کے مطابق اصل واقعہ کچھ یوں تھا کہ مانسون اجلاس کے موقع پر نیشنلسٹ کانگریس کے کارکن نیتن دیشمکھ پر اسمبلی کے داخلی دروازے پر پانچ حملہ آوروں نے جان لیوا حملہ کیا۔ ان پر شدید جسمانی تشدد کیا گیا اور یہ پورا واقعہ سی سی ٹی وی میں قید ہے۔ اس کے باوجود حیرت انگیز طور پر صرف نیتن دیشمکھ کو گرفتار کیا گیا، جبکہ چار حملہ آور آزاد گھوم رہے ہیں۔ اس زیادتی کے خلاف تحقیقات اور انصاف کی اپیل کے لیے ایم ایل اے جتیندر آوہاڈ اور ایم ایل اے روہت پوار نے پہلے میرین ڈرائیو پولیس اسٹیشن اور پھر آزاد میدان پولیس اسٹیشن کا دورہ کیا۔ سوشل میڈیا پر جو ویڈیو وائرل کیا جا رہا ہے وہ ادھورا اور گمراہ کن ہے۔ دراصل روہت پوار نے محض اپنے کارکن کے بارے میں استفسار کیا، مگر اس پر تھانے میں موجود پولیس افسر پی ایس آئی گوپنے نے نہایت ہتک آمیز رویہ اپناتے ہوئے ہاتھ کے اشارے سے انہیں تھانے سے باہر جانے کو کہا اور ’وہ یہاں نہیں، چوکی میں ہے‘ جیسا ٹال مٹول بھرا جواب دے کر ماحول کو کشیدہ کیا۔

نیشنلسٹ یوتھ کانگریس ممبئی کے صدر ایڈوکیٹ امول ماتیلے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ مکمل ویڈیو میں واضح ہے، مگر جان بوجھ کر صرف وہ لمحہ دکھایا جا رہا ہے جو روہت پوار کے ردعمل کا ہے، تاکہ ان کی کردار کشی کی جا سکے۔ ایڈووکیٹ امول ماتیلے نے کہا کہ وہ خود اس موقع پر موجود تھے اور روہت پوار نے صرف اپنے کارکن کے بارے میں سوال کیا تھا، لیکن پولیس افسر کا لہجہ، الفاظ اور جسمانی حرکات کسی عوامی نمائندے سے بات کرنے کے لائق نہ تھیں۔ مکمل ویڈیو میں سب کچھ صاف ہے، مگر صرف ایک رخ دکھا کر عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔

ایڈووکیٹ امول ماتیلے نے سوال اٹھایا ہے کہ اصل حملہ آوروں کو آج تک گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟ صرف اپوزیشن پارٹی کے کارکن کو ہی کیوں گرفتار کیا گیا؟ اور ایک عوامی نمائندے، جو پرامن طریقے سے پوچھ گچھ کر رہے تھے، انہی پر مقدمہ کیوں دائر کیا گیا؟ یہ سب حکومت کی جانب سے اپوزیشن کو دبانے کی سازش کا حصہ ہے۔ایڈوکیٹ امول ماتیلے نے وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اصل حملہ آوروں کو فوری طور پر گرفتار نہ کیا گیا اور ایم ایل اے روہت پوار کے خلاف درج بے بنیاد مقدمہ واپس نہ لیا گیا، تو نریمن پوائنٹ پولیس اسٹیشن کے سامنے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہمارا احتجاج نہ عدالت میں رکے گا، نہ سڑکوں پر۔ ہم عوام کے سامنے سچ لائیں گے اور جمہوریت کا گلا گھونٹنے والی اس حکومت کے خلاف ہر سطح پر لڑیں گے۔

NCP-SP Urdu News 20 July 25.docx

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading