نئی دہلی:ہندو فریق نے مندر-مسجد تنازعات کی سماعت پر لگائی گئی عبوری پابندی کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ہندو فریق کے وکیل نے سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کرتے ہوئے ملک بھر کی عدالتوں میں جاری مندر-مسجد تنازعات کی سماعت پر عائد عبوری پابندی کو ختم کرنے کی درخواست کی ہے۔
دراصل، گزشتہ سال دسمبر میں سپریم کورٹ نے ملک بھر کی مختلف عدالتوں میں زیرِ سماعت مندر-مسجد تنازعات کی کارروائی پر عبوری روک لگا دی تھی۔ سپریم کورٹ نے ‘پلیسز آف ورشپ ایکٹ’ پر سماعت کے دوران مندر-مسجد سے متعلق نئے مقدمات دائر کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی تھی۔ ساتھ ہی، عدالت نے سروے پر بھی اسٹے لگاتے ہوئے مرکز سے چار ہفتوں کے اندر جواب طلب کیا تھا۔
اب ہندو فریق کے وکیل وشنو جین نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کرتے ہوئے 12 دسمبر 2024 کو دیے گئے عبوری حکم کو واپس لینے کی درخواست کی ہے۔ اس کے ساتھ ایک اور عرضی داخل کرتے ہوئے پلیسز آف ورشپ ایکٹ 1991 کی دفعات پر بھی روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔
سپریم کورٹ نے 12 دسمبر کو عبوری حکم دیا تھا کہ عدالت کے اگلے حکم تک کوئی نیا مقدمہ تو داخل کیا جا سکتا ہے، لیکن وہ نہ تو رجسٹر ہوگا اور نہ ہی اس پر کوئی کارروائی ہوگی۔ عدالت نے ہدایت دی تھی کہ سپریم کورٹ کے آئندہ احکامات تک کوئی بھی عدالت سروے جیسے اقدامات سمیت کوئی مؤثر یا حتمی فیصلہ نہیں سنا سکتی۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے بدھ کے روز پلیسز آف ورشپ ایکٹ 1991 کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر سماعت کی۔ اس دوران عدالت نے کہا کہ جب تک مرکز کا جواب موصول نہیں ہوتا، اس معاملے کی مکمل سماعت ممکن نہیں ہے۔ ساتھ ہی، عدالت نے یہ بھی ہدایت دی کہ سماعت کے دوران کوئی نیا مقدمہ درج نہیں کیا جا سکتا۔