سُریش دھس کے ‘مینیج’ ہونے کے امکان سے انکار نہیں کیا جا سکتا، حکومت کو اپنی اخلاقی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے
بارامتی: این سی پی شرد چندر پوار کی کارگزار صدر اور رکن پارلیمنٹ سپریا سولے نے بارامتی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے توقع تھی کہ میں نے جن وزیروں پر بدعنوانی اور قتل کے الزامات لگائے تھے ان کے خلاف سیاسی اخلاقیات کی بنیاد پر تمام پارٹیاں ایک ساتھ آئیں گی لیکن موجودہ حالات دیکھ کر مجھے افسوس ہو رہا ہے۔ مجھے کبھی بھی یہ نہیں لگا تھا کہ سُریش دھس اور دھننجے منڈے ملیں گے۔ کل میں ماساجوگ اور پرلی جا رہی ہوں۔ ہم ہمیشہ سنتوش دیشمکھ اور منڈے خاندان کو انصاف دلانے کے لیے ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ سُریش دھس کے ’مینیج‘ ہونے کے امکان سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ بیڑ میں جو ہوا ہے، اس میں سیاست کو نہ لایا جائے۔ سُریش دھس سے مجھے بڑی توقعات تھیں۔ سُریش دھس مینیج ہوئے ہیں یا نہیں؟ اس کا جواب چندر شیکھر باونکولے دیں گے کیونکہ انہی نے ہی چار گھنٹے کی میٹنگ کا انتظام کیا تھا۔ اجیت پوار نے کہا تھا کہ جب مجھ پر الزامات لگے تھے تو میں نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ چھگن بھجبل، اشوک چوہان اور آر آر پٹیل نے اخلاقی بنیادوں پر استعفیٰ دیا تھا۔ ریاست میں کئی لوگوں نے اخلاقیات کی بنیاد پر استعفیٰ دیا تھا۔ مجھے کبھی نہیں لگا تھا کہ سُریش دھس اور دھننجے منڈے ملیں گے۔ باونکولے نے کہا کہ میٹنگ چار گھنٹے تک ہوئی۔ ہمیں سیاست نہیں کرنی ہے۔ شفاف تحقیقات ہونی چاہیے اور انصاف ملنا چاہیے۔ انجلی دمانیا نے تمام دستاویزات وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ کو دی ہیں۔ حکومت کو اپنی اخلاقی ذمہ داری ادا کرنی چاہئے۔
سپریا سولے نے مزید کہا کہ ایم ایل اے تاناجی ساونت کے بیٹے کو ڈھونڈنے کے لیے ریاستی مشینری متحرک ہو گئی تھی، لیکن سنتوش دیشمکھ کے قتل کو 70 دن گزر جانے کے باوجود اس کیس کے پانچویں ملزم کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے، جو ایک انتہائی افسوسناک بات ہے۔ پر بھنی اور بیڑ دونوں واقعات میں متاثرین کو انصاف ملنا چاہیے۔ بیڑ میں دیشمکھ خاندان اس وقت شدید بے چینی میں ہے اور کوئی بھی ان کی مدد کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس لیے میں منگل کو ان سے ملنے جا رہی ہوں۔ دیشمکھ کی بیٹی بارہویں کلاس کے دوران اپنے والد کے لیے انصاف کی تلاش میں دربدر پھر رہی ہے، لیکن اس حکومت کو ان کے آنسو نظر نہیں آتے۔
سپریا سولے نے مزید کہا کہ 28 فروری کو ممبئی میونسپل کارپوریشن کے خلاف ایک مارچ نکالا جائے گا۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن میں کئی چیلنجز ہیں اور بہت سارے ڈیپازٹ نکالی جا رہی ہے جو تشویش کا باعث ہے۔ ہمارا یہ مارچ ممبئی میونسپل کارپوریشن کے خلاف ہو گا۔ ’لاڈکی بہن یوجنا‘ کے بارے میں بات کرتے ہوئے سپریا سولے نے کہا کہ اگر ہماری حکومت آتی تو ہم کسی کو بھی خارج نہیں کرتے۔ ہم تو تین ہزار روپے دینے والے تھے، لیکن اب مہا یوتی حکومت خواتین کو جن کی آمدنی ڈھائی لاکھ سے زیادہ ہے، انہیں اسکیم کی فہرست سے خارج کر دے گی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ اسکیم صرف اقتدار کے حصول کے لیے تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسانوں کے قرض معافی کے بارے میں بی جے پی نے اپنے منشور میں بڑے بڑے وعدے کیے تھے اور اب ہم اس فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیوندر فڑنویس نے کہا تھا کہ وہ کسانوں کے سات بارہ کلیئر کریں گے، اب ریاست کے بجٹ میں اس کے بارے میں کیا فیصلہ ہوتا ہے، ہم اس کا انتظار کر رہے ہیں۔