ووٹر لسٹ میں سنگین گڑبڑیاں، فوراً جانچ اور اصلاح کی جائے
درست ووٹر لسٹ کے تحت ہی آئندہ انتخابات ہوں: جینت پاٹل
ممبئی: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد چندر پوار) کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر جینت پاٹل نے ووٹر لسٹ میں پائی جانے والی سنگین بے ضابطگیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ووٹر لسٹ کی جانچ اور اصلاح کی جائے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ انتخابات صرف درست شدہ ووٹر لسٹ کی بنیاد پر ہی کرائے جائیں۔ اگر اسمبلی انتخابات کے بعد انہی غلط ووٹر لسٹ کو مقامی بلدیاتی اداروں کے انتخابات میں استعمال کیا گیا تو سنگین بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
جینت پاٹل نے ریاستی الیکشن کمشنر دنیش واگھمارے اور چیف الیکشن آفیسر چوکالنگم سے ملاقات کے دوران یہ مطالبہ پیش کیا۔ ان کے مطابق ریاست میں ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانے پر خامیاں ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ بعد ازاں تمام اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں نے بھی الیکشن کمیشن کے حکام سے ملاقات کر کے بے شمار غلطیوں کی نشاندہی کی اور میڈیا کو تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ جینت پاٹل نے اس موقع پر کہا کہ ووٹروں کے پتوں میں شدید غلطیاں ہیں، متعدد ووٹر اپنے درج شدہ پتوں پر رہائش پذیر ہی نہیں، بعض گھروں کے نمبر غلط درج کیے گئے ہیں اور کئی مقامات پر ایک ہی شخص کے متعدد نام فہرست میں شامل ہیں۔ انہوں نے بطور مثال بتایا کہ ناندیڑ میں ایک ہی گھر میں 813 ووٹروں کے نام درج ملے، جبکہ نالاسوپارہ کے ایک حلقے میں ایک خاتون سشما گپتا کا نام چھ مختلف ای پی آئی سی آئی ڈی نمبروں کے ساتھ درج تھا، جس کی خبر 12 اگست کو مختلف ٹی وی چینلز نے بھی ثبوت کے ساتھ نشر کی تھی۔
پاٹل نے سوال اٹھایا کہ اگر یہ نام بعد میں فہرست سے ہٹا دیا گیا تو اسے کس نے ہٹایا؟ انہوں نے یہ سنگین الزام بھی لگایا کہ ریاست یا مرکزی الیکشن کمیشن کے سرور کو دراصل کوئی تیسرا فریق چلا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جمہوری عمل کے ساتھ خطرناک مذاق ہے، جسے کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے انتخابات میں شفافیت بری طرح متاثر ہوئی۔ کتنے مرد اور کتنی خواتین نے ووٹ ڈالا، اس کی تفصیل ہر گھنٹے جاری ہونی چاہیے تھی، لیکن اسمبلی انتخابات کے دوران یہ سسٹم جان بوجھ کر بند کر دیا گیا۔ نتائج شام پانچ بجے کے بعد تک ظاہر نہیں کیے گئے، اور دو دن بعد حتمی فہرست جاری کی گئی، جو مکمل طور پر غیر شفاف عمل ہے۔
جینت پاٹل نے انکشاف کیا کہ ایک موجودہ ایم ایل اے نے خود اعتراف کیا کہ اس کے حلقے میں 20 ہزار ووٹ باہر سے منگوا کر جتوائے گئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن کو اس بیان کی فوری جانچ کرنی چاہیے۔ جینت پاٹل نے واضح کیا کہ الیکشن کمیشن کو تمام سوالات اور شبہات کا جواب دینا ہوگا، اور ان معاملات پر بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے کوئی صفائی یا وضاحت ناقابل قبول ہے۔ جمہوریت کی تضحیک کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
اس موقع پر شیو سینا کے سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ اُدھو ٹھاکرے، مہاراشٹر نونرمان سینا کے صدر راج ٹھاکرے، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار) کے ریاستی صدر ششی کانت شندے، سابق وزیر بالا صاحب تھورات، سابق اپوزیشن لیڈر وجے وڈیٹی وار، رکنِ پارلیمنٹ اروِند ساونت، بالا ناندگاؤنکر، شیوسینا (او بی سی) کے لیڈر بھائی جینت راؤ پاٹل، سماج وادی پارٹی کے لیڈر رئیس شیخ اور دیگر اہم لیڈران موجود تھے۔
NCP-SP Urdu News 15 Oct. 25.docx