لوک سبھا الیکشن میں اگر سپریا سولے کے سامنے خوداجیت پوار ہوتے تو بھی ہار جاتے: مہیش تپاسے
ممبئی: این سی پی-ایس پی کے کارگزار صدر اور رکن پارلیمنٹ سپریا سولے کے فون کا ہیک ہونا نہایت سنگین معاملہ ہے۔ کارکنوں کو شک ہے کہ مرکزی حکومت پیگاسس سافٹ ویئر کے ذریعے ان کی نگرانی نہیں کر رہی ہے۔ این سی پی -ایس پی کے چیف ترجمان مہیش تپاسے نے سوال اٹھایا ہے کہ لوک سبھا انتخابات کے بعد اب جبکہ اسمبلی انتخابات قریب ہیں، کیا پیگاسس سافٹ ویئر دوبارہ ایکٹیو کر دیا گیا ہے؟ وہ یہاں پارٹی دفتر میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کر رہے تھے۔
مہیش تپاسے نے کہا کہ نائب وزیر اعلی اجیت دادا پوار نے یہ اعتراف کیا ہے کہ بارامتی میں سپریا سولے کے سامنے اہلیہ سنیترا پوار کو کھڑا کرنا ایک غلطی تھی۔ اگر اجیت پوار خود سپریا سولے کے خلاف کھڑے ہوتے تو بھی وہ یقینی طور پر ہار جاتے۔ تپاسے نے کہا کہ اقتدار آتا جاتا ہے، لیکن دکھ ہوتا ہے کہ جب اجیت پوار نے خاندان سے زیادہ اقتدار کو اہمیت دی۔ ایک بار خاندان ٹوٹ جائے تو اسے جوڑنا مشکل ہو جاتا ہے اور یہ غلطی اجیت پوار نے کی ہے۔ مہیش تپاسے نے کہا کہ اجیت پوار نے جو چاہا شرد پوار نے انہیں دیا، مگر افسوس کہ اجیت پوار نے پارٹی توڑی اور شرد پوار صاحب کو ذہنی اذیت پہنچائی۔
مہیش تپاسے نے کہا کہ نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کا یہ کہنا ہے کہ ادھو ٹھاکرے کی شیوسینا اور شرد پوار کی نیشنلسٹ کانگریس کو توڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان دونوں پارٹیوں کے درمیان تقسیم کے باوجود ووٹ بھارتیہ جنتا پارٹی کو منتقل نہیں ہوئے ہیں۔ جبکہ سچائی یہ ہے کہ مہاراشٹر کے لوگ بی جے پی سے پوچھ رہے ہیں کہ اس نے ریاست میں پارٹیوں کو توڑنے کی سیاست کیوں کی؟ مہاراشٹر کے عوام نے لوک سبھا انتخابات کے ذریعے بی جے پی کو اس کا جواب دے دیا ہے۔ تپاسے نے کہا کہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں بھی عوام بی جے پی کو ووٹ نہیں دیں گے۔ یہی نہیں بلکہ اب تو یہ تک سوال پیدا ہو گیا ہے کہ کیا آر ایس ایس کے ووٹ بی جے پی کو ملیں گے یا نہیں۔
مہیش تپاسے نے کہا کہ امراؤتی بڈنیرا سے بی جے پی کے حامی ایم ایل اے روی رانا کا ’لاڈکی بہین یوجنا‘کے بارے میں دیا گیا بیان قابل مذمت ہے۔ ریاستی حکومت لاڈکی بہین یوجنا کے ذریعے جو رقم دے رہی ہے وہ روی رانا، بی جے پی، شیوسینا یا اجیت پوار گروپ کے لیڈر نہیں دے رہے ہیں۔ یہ مہاراشٹر حکومت دے رہی ہے۔ روی رانا یہ کہنا نہایت غلط ہے کہ اگر ہمیں ووٹ نہیں دیا تو ہم پیسے واپس لیں گے۔ اس بیان کے ذریعے ووٹروں کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مہیش تپاسے نے مطالبہ کیا ہے کہ الیکشن کمیشن رانا کے ’پے اینڈ ووٹ‘ کے اس بیان کا نوٹس لے۔
NCP-SP Urdu News 13 August 24.docx
