NCP-SP Urdu News 11 Dec. 25

مہاراشٹر میں حکومتی بے ضابطگیوں، فنڈ کی تقسیم اور دیوستھان اراضی پر سنگین سوال

حکومت کے اعلانات صرف جی آرز تک محدود، کسانوں تک ایک روپیہ بھی نہیں پہنچا: جینت پاٹل

ناگپور: این سی پی- ایس پی کے قانون ساز کونسل کے لیڈر جینت پاٹل نے آج اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حکومت مہاراشٹر کی پالیسیوں، انتظامی طرزِعمل اور جاری قانون سازی پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے ارکانِ اسمبلی تو عرصے سے ترقیاتی فنڈ سے محروم ہیں، مگر صورتحال یہ ہے کہ حکمراں پارٹیوں کے اپنے ارکان بھی فنڈ کی غیر منصفانہ تقسیم پر سرِعام ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں۔ ریاست میں پسند و ناپسند کی بنیاد پر فنڈ جاری ہو رہے ہیں، جو انصاف اور جمہوری عمل دونوں کے خلاف ہے۔

جینت پاٹل نے کہا کہ اس قدر مختصر اجلاس میں عوامی مسائل کا احاطہ مشکل ہے، اس کے باوجود وہ کوشش کریں گے کہ اگلے چند دنوں میں ودربھ کے مسائل اور کسانوں کی مشکلات بھرپور انداز میں ایوان میں اٹھائی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف جی آرز کے ذریعے ہزاروں کروڑ روپے کے مراعاتی پیکجوں کا اعلان تو کر دیا ہے، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ کسانوں تک اب تک ان میں سے ایک روپیہ بھی نہیں پہنچا۔ جینت پاٹل نے سرکاری مشینری کو مشکوک قرار دیتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کے رویّے نے عوام کا ای وی ایم پر اعتماد ختم کر دیا ہے۔ لوگ مسلسل نگرانی، ریکارڈنگ اور انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں سے پریشان ہیں۔ ریاست میں ایک بڑا طبقہ بیلٹ پیپر پر واپسی کا مطالبہ کر رہا ہے کیونکہ انتخابی کمیشن پر اعتماد تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔

جینت پاٹل نے مہاراشٹر زمین محصول بل (ترمیم و قانونی توثیق) بل 2025 کی بحث میں حصہ لیتے ہوئے ایک اور سنگین خدشہ ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں خاص طور پر مراٹھواڑہ میں مذہبی مقامات کی زمینوں پر بڑے پیمانے پر قبضے کیے گئے، غیر قانونی طور پر زمین کا درجہ تبدیل کر کے اسے فروخت کیا گیا اور پھر ترقیاتی منصوبوں کے نام پر اس کی مکمل شکل بدل دی گئی۔ انہوں نے شبہ ظاہر کیا کہ کہیں اس ترمیمی بل کا مقصد انہی بااثر عناصر کو قانونی تحفظ فراہم کرنا تو نہیں جنہوں نے مذہبی مقامات کی زمینوں کو ہتھیا کر بڑا مالی فائدہ اٹھایا ہے۔

جینت پاٹل نے مزید کہا کہ اگر یہ ترمیمی بل صرف میونسپل علاقوں، شہری بستیوں یا قدیم گاؤں کی حد تک ہوتا تو وہ اس کی حمایت کرنے کے لیے تیار تھے، لیکن چونکہ اس کے دائرے پر شدید ابہام موجود ہے اور ایسے کئی کیس عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں جہاں متاثرین کو دھمکانے تک کی کوشش کی گئی ہے، اس لیے حکومت کو بل کے حقیقی مقاصد پر شفاف اور واضح جواب دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں، نوجوانوں اور عام شہریوں کے مسائل حل ہونے تک ان کی جدوجہد جاری رہے گی اور حکومت کے جھوٹے وعدوں کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

NCP-SP Urdu News 11 Dec. 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading