NCP-SP Urdu News 10 Sep 25

پبلک سیکوریٹی بل کے خلاف سپریا سُولے کی قیادت میں مہا وکاس اگھاڑی کا احتجاج

پونے: پونے میں مہا وکاس اگھاڑی کی جانب سے پبلک سیکوریٹی بل کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ این سی پی شرد پوار کی صدر اور پارلیمنٹ کی رکن سپریا سُولے نے بھارت رتن ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس احتجاج میں حصہ لیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے پیش کیا گیا پبلک سیکوریٹی بل آئین کے منافی ہے۔ جب کہ حکومت نکسلواد کے خاتمے کا دعویٰ خود کر رہی ہے اور اس کے خلاف پہلے سے ہی قوانین موجود ہیں، تو پھر نئے قانون کی ضرورت ہی کیا ہے؟ لہٰذا حکومت کو یہ بل واپس لینا چاہیے۔ اس احتجاج میں مہا وکاس اگھاڑی کے متعدد عہدیداران اور کارکنان شریک تھے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سپریا سُولے نے کہا کہ جب اسمبلی میں یہ بل پیش کیا گیا تھا، اس وقت کانگریس، نیشنلسٹ کانگریس (شرد چندر پوار) اور شیو سینا (ادھو بالاصاحب ٹھاکرے) نے مل کر اس کی مخالفت کی تھی۔ آج بھی اس پر اعتراض وہی ہے کہ حکومت بار بار یہ کہتی ہے کہ ملک سے نکسلواد ختم ہو چکا ہے، تو پھر موجودہ قوانین کے ہوتے ہوئے نئے قانون کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ دراصل آئین کی روح کے خلاف ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ ملک کسی کی مرضی پر نہیں بلکہ صرف بابا صاحب امبیڈکر کے آئین پر چلنے والا ہے۔ اسی وجہ سے مہا وکاس اگھاڑی نہ صرف سیاسی طور پر بلکہ ذمہ دار شہری کی حیثیت سے بھی اس بل کی مخالفت کر رہی ہے۔ ہماری پرزور اپیل ہے کہ حکومت یہ بل واپس لے۔

جب ان سے نائب صدر کے انتخاب کے حوالے سے سوال پوچھا گیا تو سپریا سُولے نے کہا کہ خفیہ رائے دہی میں یہ کیسے معلوم ہو سکتا ہے کہ کس پارٹی نے کراس ووٹنگ کی ہے؟ وائی ایس آر کانگریس پارٹی انڈیا اتحاد میں شامل ہی نہیں ہے۔ پھر یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ کس نے ووٹ توڑا؟ اگر ایسے الزامات لگائے جا رہے ہیں تو اس کا مطلب یہی ہے کہ راہل گاندھی جو کہتے ہیں وہ سچ ہے کہ ووٹوں کی چوری ہوئی ہے۔

NCP-SP Urdu News 10 sep 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading