لاؤڈ اسپیکر سے متعلق سرکیولر فوری واپس لیا جائے: نسیم خان

بی جے پی حکومت مذہبی معاملات میں مداخلت کے ذریعے عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے

ممبئی: مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال اور ریاستی کارگزار صدر و سابق وزیر محمد عارف نسیم خان نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی پولیس کے ذریعے مذہبی مقامات پر لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کے سلسلے میں جاری کیے گئے نئے سرکیولر کو آڑے ہاتھوں لیا اور اسے فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔

تلک بھون میں ہوئی اس پریس کانفرنس میں عارف نسیم خان نے کہا کہ مہاراشٹر میں حکمراں بی جے پی حکومت عوامی مسائل جیسے مہنگائی، بے روزگاری، کسانوں کی بدحالی، صنعتی زوال اور امن و قانون کی بگڑتی صورت حال سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے جان بوجھ کر مذہبی جذبات کو بھڑکانے والے موضوعات کو ہوا دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کے سلسلے میں پولیس کی جانب سے جاری کردہ تازہ سرکیولر نہ صرف آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ ریاست کے پرامن ماحول کو متاثر کرنے والا قدم بھی ہے۔

نسیم خان نے یاد دلایا کہ سال 2022 میں عدالت نے مذہبی مقامات پر لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کے لیے واضح ہدایت دی تھی کہ صبح 6 بجے سے رات 10 بجے تک ایک مخصوص آواز کی حد کے دائرے میں اس کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اب پولیس نے 11 مئی کو ایک نیا سرکیولر جاری کیا ہے، جس میں عبادت گاہوں میں لاؤڈ اسپیکر لگانے کے لیے تعمیراتی نقشے کی منظوری، پراپرٹی کارڈ اور بلدیاتی اداروں کی تصدیق کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے اس سرکیولر کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام پولیس کے ذریعے مذہبی امور میں صریح مداخلت ہے، جو کہ آئینی طور پر دی گئی مذہبی آزادی کے خلاف ہے۔

نسیم خان نے کہا کہ یہ ایک فرقہ وارانہ ذہنیت کا عکاس قدم ہے جو ریاستی حکومت کی خاموش منظوری کے بغیر ممکن نہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ دیوندر فڑنویس سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ اس غیر آئینی اور اشتعال انگیز سرکیولر کو فوراً منسوخ کرنے کا حکم جاری کریں، تاکہ عوام کے اندر پھیلنے والی بے چینی اور بداعتمادی کا ازالہ ہو سکے۔

پریس کانفرنس کے بعد محمد عارف نسیم خان نے عیدالاضحیٰ کے پیش نظر دیونار مذبح خانے کا بھی معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے مذبح خانے کے افسران، انتظامیہ کے نمائندوں، قربانی کے جانوروں کے تاجروں اور خریداروں سے تفصیلی بات چیت کی۔ انہوں نے جانوروں کی خرید و فروخت، صفائی ستھرائی، پانی کی فراہمی، روشنی، ٹریفک کنٹرول، ٹوکن سسٹم اور دیگر سہولیات کے متعلق معلومات حاصل کیں اور افسران کو سختی سے ہدایت دی کہ وہ عوام اور تاجروں کو درپیش تمام مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں۔

نسیم خان نے کہا کہ قربانی کے تہوار میں لاکھوں افراد کا تعلق ہوتا ہے اور انتظامیہ کی معمولی لاپروائی بھی بڑے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ اس لیے متعلقہ اداروں کو مکمل مستعدی اور حساسیت کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینے چاہئیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ مذہبی تہواروں کے دوران نہ صرف سہولیات فراہم کرے بلکہ مذہبی جذبات کا احترام کرتے ہوئے غیر ضروری پابندیوں اور سرکاری کارروائیوں سے گریز کرے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading