ممبئی 4 جون (ایجنسی) ریاستی وزیر تعلیم دادا بھوسے کی جانب سے اس اعلان کے بعد کی ریاست میں پہلی جماعت سے طلباء کو بنیادی سطح کی فوجی تربیت دئ جائے گی، اس پر حسب اختلاف اور حسب اقتدار پارتی کے ترجمانوں، مختلف پارٹیوں کے قائدین، کے ساتھ ساتھ ماہر تعلیم نیز سابق فوجی افسران نے یو این آئی کے ساتھ گفتگو میں اپنے تاثرات اور ردعمل اظہار کیا ہے۔
نشنلسٹ کانگریس پارٹی ( شرد پوار ) کے مہیش تپاسے نے وزیر تعلیم کے اس بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک اہم اور قابل تعریف فیصلہ قرار دیا ہے، تاہم انھوں نے یہ وضاحت بھی کی کہ اگر یہ فیصلہ ملک اور خاص طور پر ” انسانوں کی خدمت” کے لیے لیا گیا ہو۔ انھوں نے یاد دلایا کہ سیول ڈیفنس ایک اہم شعبہ ہے، اور یہ پہلے سے ہی اسکولوں میں رائج ہے۔ اسکولوں میں اسکاوٹ گائیڈ کے ذریعے سے یہ تربیت پہلے سے ہی دی جا رہی ہے۔
تاہم ، وزیر تعلیم دادا بھوسے کے ساتھ حکومت میں شامل نشنلسٹ کانگریس ( اجیت پورا ) پارٹی کے ترجمان نے اس پر کوئی بھی رائے دینے سے انکار کردیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ "صرف ایک وزیر کا بیان ہے، اس پر کیا رائے دی جا سکتی ہے؟” اگر کل( بروز منگل) ریاستی کابینہ میں یہ فیصلہ لیا جاتا ہے تو اس پر بات ہو سکتی ہے۔
حسب اختلاف پارٹی شیو سینا ( یو بی ٹی) کے قائد اور رکن پارلیمنٹ اروند ساونت نے وزیر تعلیم کے اس فیصلے کو ” نام بدل کر ڈرامہ کرنا ” قرار دیا۔ انھوں نے کہا آج بھی یہ کام ہو رہاہے۔ اسکولوں میں اسکاؤٹ گائیڈ اور فزیکل ٹرینگ کے ذریعے سے یہ کہا جا رہاہے۔اور یہی سب سیکھایا جاتا ہے۔
اورنگ آباد سے تعلق رکھنے والے ملک کے مشہور ماہر تعلیم اور کیریئر کونسلر محمد نجم الدین ، جو اس وقت حج کے لیے مکہ میں ہیں، نے وزیر تعلیم کے اس فیصلے راست تبصرہ نہ کرتے ہوئے مہاراشٹر میں جاری
تعلیمی نظام میں ضروری تبدیلیوں پر فوری عمل در آمد کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انھوں نے واضح کیا کہ اس سے زیادہ کئی اہم مسائل ہیں، جن پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ کوئی مناسب ہیومن ریسورس موجود نہیں ہے، جس سےکوالٹی ایجو کیشن( معیار تعلیم) متاثر ہو رہا ہے۔ انھوں نےافسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ، فری ایجوکشن بل پاس ہو کر 15 سال ہو گئے ہیں ۔ جس میں کہا گیا ہے کہ ،حکومت کے زیر انتظام اور پرائیویٹ اسکولوں میں 30 بچوں پر ایک ٹیچر ہونا چایئے۔جس پر ابھی تک کوئی عمل نہیں کیا گیا۔ جس سے تعلیم کا معیار متاثر ہو رہاہے۔ شہری علاقوں ایک ایک کلاس میں 80، 80 بچے بیٹھائے جاتے ہیں۔
محمد نجم نے ASER کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پانچویں جماعت کے 55 سے 60 فی صد بچوں کو دوسری جماعت کی ریاضی اور زبان نہیں آتی۔ انھوں نے مزید کہا کہ اسکول میں بچوں کے صحت اور صفائی کے مسائل ہیں، کھیلوں کے میدان اسکولوں سے غائب ہو چکے ہیں۔ بچوں کے کیرئر گائنس کے کے لیےکوئی ہمہ وقتی ٹیچر حکومت نے فراہم نہیں کیے ہیں۔
اخر میں انھوں نے بتایاکہ پرائمری اسکولوں میں کوئی فزیکل ٹیچر نہیں ہے صرف ہائی اسکولوں میں ہے اور وہ بھی جہاں بچوں کی تعداد 800 سے زیادہ ہے ،وہاں صرف ایک فزیکل ٹیچر ہے۔
نجم کا کہنا ہے کہ اگر وزیر تعلیم بچوں میں ملک سے محبت، باقاعدہ ورزش اور نظم و ضبط جیسی اہم خوبیوں کو فروغ دینا چاہتے ہیں تو انھیں ہر اسکول میں ایک فزیکل ٹیچر کی تقرری کرنا چائے ، جو یہ تمام مقاصد بخوبی پورے کر سکتا ہے۔
ہندوستانی فوج کے سینئر افسر نے کہا کہ ریاست کلاس 1 سے متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ بہت اچھا اقدام ہے۔ اسرائیل جیسے ممالک میں لازمی فوجی تربیت ہے۔ تاہم، انہوں نے نشاندہی کی کہ ممکنہ نقصانات سے بچنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ وہ بدمعاش عناصر کے ساتھ رابطے میں نہ آئیں۔
اسی طرں ایک سابق فوجی افسر نے کہا کہ صحیح نصاب جاننے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہمارے پاس اسکاؤٹس اور گائیڈز ہیں۔ ہمارے پاس این سی سی ہے، جیسا کہ ٹیریٹوریل آرمی ہے۔ یہ کس طرح پورا کرتا ہے، یہ دیکھنا ضروری ہے۔
واضح رہے کہ، مہاراشٹر میں اسکولی وزیر تعلیم دادا بھوسے نے اعلان کیا ہے کہ ریاست میں پہلی جماعت سے طلباء کو بنیادی سطح کی فوجی تربیت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جو ان میں ملک سے محبت، باقاعدہ ورزش اور نظم و ضبط جیسی اہم خوبیوں کو فروغ دے گا۔ دادا بھوسے کے مطابق وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے اس تجویز کو مثبت طور پر قبول کیا ہے۔