ڈپلیکٹ ناموں کے باعث شہریوں سے حلف نامے طلب کیے جانے پر ووٹنگ میں کمی کا اندیشہ، متعلقہ افسروں کے پاس بھی کوئی وضاحت موجود نہیں
ممبئی کانگریس کے وفد نے ریاستی الیکشن کمشنر سے ملاقات کی، کل بی ایم سی کمشنر، ڈپٹی کمشنر، ممبئی کانگریس کے نمائندوں اور الیکشن کمیشن کے افسروں کی مشترکہ میٹنگ متوقع
ممبئی: ممبئی میونسپل کارپوریشن کی ابتدائی ووٹر لسٹ حال ہی میں جاری کی گئی ہے، مگر اس فہرست میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ کانگریس کے مطابق لسٹ میں تقریباً 11 لاکھ ووٹروں کے نام ڈپلیکٹ درج ہیں، جس نے عام شہریوں میں شدید کنفیوژن پیدا کر دیا ہے۔ ممبئی کانگریس کی صدر اور رکنِ پارلیمنٹ ورشا گائیکواڑ نے انتخابی کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین غلطی پر اپنا موقف فی الفور واضح کرے۔
جمعرات کو ورشا گائیکواڑ کی قیادت میں ممبئی کانگریس کے وفد نے ریاستی الیکشن کمشنر سے ملاقات کی۔ اس وفد میں ایم ایل اے امین پٹیل، ایم ایل اے ڈاکٹر جیوتی گائیکواڑ، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سیکریٹری سچن ساونت، ترجمان سریش چندر راج ہنس، راجیش شرما، سابق کارپوریٹر جاوید جنیجا، اکھلیش یادو، ہرگن سنگھ اور دیگر شامل تھے۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ورشا گائیکواڑ نے کہا کہ ڈپلیکٹ ووٹروں کے مسئلے پر جب ضلع کلکٹر اور ڈپٹی کمشنروں سے وضاحت طلب کی گئی تو وہ بھی اس بابت کوئی صاف جواب نہ دے سکے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ڈپلیکٹ ووٹروں کی مکمل فہرست شائع کیوں نہیں کی جا رہی؟ ایسے ووٹروں سے حلف نامہ لینے کا فیصلہ کس بنیاد پر ہے؟ اور انتخابی کمیشن اس حوالے سے آخر کیا کارروائی کرنے جا رہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ڈپلیکٹ نام کس وارڈ میں درج ہے، یہ تک شہریوں کو نہیں بتایا جا رہا۔ اب آخری دن حلف نامہ جمع کرانے کی شرط نے کنفیوژن مزید بڑھا دیا ہے، جو شہریوں کے لیے غیر ضروری تکلیف کا سبب ہے اور اس سے ووٹنگ کے فیصد میں کمی کا حقیقی خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
ورشا گائیکواڑ نے مزید وضاحت کی کہ گزشتہ نو برس سے وارڈ بندی نہیں کی گئی۔ اکتوبر 2024 سے اب تک کوئی نئی ووٹر لسٹ جاری نہیں ہوئی تھی۔ موجودہ مسودہ لسٹ میں 7 ہزار سے 9 ہزار ووٹروں کے نام ایک وارڈ سے دوسرے وارڈ میں منتقل کر دیے گئے ہیں۔ دھاراوی، اندھیری اور کاندیولی سمیت کئی علاقوں میں یہی گڑبڑ دیکھی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن اور میونسپل کارپوریشن کے درمیان مکمل طور پر ہم آہنگی کا فقدان ہے اور دونوں میں سے کسی کی بھی ذمہ داری واضح نہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی کمیشن نے آج بی ایم سی کو چند ہدایات دی ہیں، جن پر فوری عمل درآمد ضروری ہے اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ڈپلیکٹ ناموں کی مکمل فہرست عوام کے لیے جاری کی جائے گی یا نہیں۔ کانگریس کے وفد نے جو نکات اٹھائے ہیں ان پر کل دوپہر تین بجے الیکشن کمیشن کے افسران، بی ایم سی کمشنر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر، دو ڈپٹی کمشنر اور ممبئی کانگریس کے نمائندوں کی اہم میٹنگ ہونے والی ہے۔