ممبئی کے لوگوں کی جیبیں کاٹنے والے اڈانی کے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ رد کیا جائے: سریش چندر راج ہنس
ممبئی: ممبئی والوں کو جہاں شدید گرمی کا سامنا ہے وہیں اڈانی کمپنی نے بجلی کے نرخ بڑھا کر ممبئی والوں کو ایک اور جھٹکا دیا ہے۔ بجلی کے نرخ میں یہ اضافہ یکم مئی سے لاگو ہوگا ۔ یہ اضافہ ممبئی والوں کی جیبیں کاٹنے والا ہوگا اور شدید گرمی سےجھو رہے لوگوں اڈانی کے بجلی کے نرخوں میں اضافے کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ یہ ممبئی والوں خاص طور سے جھوپڑ پٹیوں اور چھوٹے مکانوں میں رہنے والےغریبوں کے لیے بہت بڑا بوجھ ہوگا۔ اس لیے اڈانی بجلی کی شرح میں ہونے والا یہ اضافہ فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔ یہ مطالبہ ممبئی کانگریس کے سلم سیل کے صدر سریش چندر راج ہنس نے کیا ہے۔
سریش راج ہنس نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اڈانی پاور نے اپنی بجلی کی قیمتوں میں 70 پیسے کا اضافہ کر کے 1.70 روپے فی یونٹ کر دیا ہے اور ممبئی والوں کو اس بڑھے ہوئے بجلی کے بل سے نقصان اٹھانا پڑے گا۔ کچی آبادیوں میں رہنے والے غریب، محنت کش اور متوسط طبقے کے خاندان بھی بجلی کی قیمتوں میں اس اضافے سے متاثر ہوں گے۔ جیسے جیسے ممبئی میں درجہ حرارت بھی بڑھ رہا ہے، پنکھے، اے سی، کولر کا بڑی مقدار میں استعمال ہو رہا ہے، اس لیے گرمیوں میں اس قیمت میں اضافے نے عام لوگوں کو حیران کر دیا ہے۔ اڈانی کی بجلی کی شرح میں اضافے سے ممبئی کے 30 لاکھ لوگ متاثر ہوں گے، ٹاٹا پاور نے بھی بجلی کے نرخ بڑھا دیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے دور میں مہنگائی نے عوام کا جینا مشکل کر دیا ہے۔ حکومت مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہو چکی ہے اور نجکاری کی وجہ سے حکومت کا اس پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ عام لوگوں کا اس صورت حال میں جینا مشکل ہو گیا ہے۔سریش چندر راج ہنس نے یہ بھی کہا کہ حکومت کو اس پر توجہ دینی چاہئے اور عام ممبئی والوں کو اس قیمت کے اضافے سے بچانا چاہئے۔
