ایکناتھ شندے وہی اور اتنا ہی بولتے ہیں جتنا اور جو بی جے پی انہیں کہتی ہے: ناناپٹولے
شندے کو مکمل معلومات کے بغیر کانگریس کے بارے میں بات نہیں کرنی چاہئے
لوک سبھا انتخابات میں عوام پارٹی اور انتخابی نشان چوروں کو سبق سکھائے بغیر نہیں رہیں گے
ممبئی: وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے دیے گئے اسکرپٹ کو پڑھنے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتے۔ ایکناتھ شندے کو یہ کہنے سے پہلے معلومات حاصل کرنی چاہیے کہ کانگریس نے دلتوں اور مسلمانوں کو ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا۔ آزادی کے بعد 60-65 سال تک کانگریس حکومت کی وجہ سے ہی ملک میں تمام ذاتوں اور مذاہب کے لوگ خوف و ہراس سے پاک ماحول میں رہ رہے تھے۔ شندے کو نہیں معلوم کہ بی جے پی کی ریاست میں دلت، قبائلی اور اقلیتی برادری اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر جی رہے ہیں۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اتنا ہی اور وہی بولتے ہیں جتنا اور جو بی جے پی نے انہیں کہتی ہے۔ شندے کو مکمل معلومات کے بغیر کانگریس کے بارے میں بات نہیں کرنی چاہیے۔
ایکناتھ شندے کے بیان کا جواب دیتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہا کہ ایکناتھ شندے کی حکومت غیر آئینی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے مہاوکاس اگھاڑی حکومت کو گرانے اور وزیر اعلیٰ کا عہدہ ایکناتھ شندے کو دینے کی سازش کی ہے۔ شندے کی اپنی کوئی پارٹی نہیں ہے اور نہ ہی کوئی نشان۔ ان کے پاس جو کچھ ہے وہ چوری کیا ہوا ہے۔ ایکناتھ شندے بھارتیہ جنتا پارٹی کے رحم و کرم پر وزیر اعلیٰ بنے ہیں۔ جب تک شندے کی ضرورت ہوگی بی جے پی انہیں استعمال کرے گی اور جب ان کی ضرورت نہیں رہے گی تو وہ انہیں نکال کر باہر پھینک دے گی۔ مودی و شاہ کی تعریف کرنا شندے کی مجبوری ہے کیونکہ ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔
کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ شندے کو معلوم ہونا چاہیے کہ بی جے پی حکومت کے دوران ملک بھر میں دلتوں، قبائلیوں اور اقلیتوں پر مظالم بڑھے ہیں۔ وہ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر زندگی گزار رہے ہیں۔ پٹولے نے کہا کہ ایکناتھ شندے کا یہ بیان کہ راہل گاندھی کبھی وزیر اعظم نہیں بنیں گے، مضحکہ خیز ہے۔ جمہوری نظام میں عوام فیصلہ کرتی ہے کہ کون وزیراعظم، وزیراعلیٰ اور کون وزیر بنے گا۔ راہل گاندھی کی مقبولیت ملک میں ہی نہیں پوری دنیا میں ہے۔ وہ ملک کی سب سے پرانی جماعت کے رہنما ہیں۔ اگر وہ چاہتے تو 2004 سے 2014 تک کے دس سالوں میں کسی بھی وقت وزیر اعظم بن سکتے تھے لیکن وہ گاندھی ہیں اور اس خاندان میں ایثار و قربانی کی روایت رہی ہے۔ کیا ایکناتھ شندے نہیں جانتے کہ سونیا گاندھی نے وزیر اعظم کا عہدہ چھوڑ دیا تھا؟ نانا پٹولے نے یہ بھی مشورہ دیا کہ شندے کو لوک سبھا انتخابات کے بعد اپنی پوزیشن کی فکر کرنی چاہئے نہ کہ کانگریس پارٹی اور راہل گاندھی کے بارے سوچ سوچ کر اپنی جان کوہلکان کرنا چاہئے۔