صدرجمہوریہ نے ٹیپوسلطان کا فخریہ تذکرہ کیا تھا، کیا بی جے پی بھول گئی؟: سچن ساونت
ٹیپوسلطان کی مددکردہ 156؍مندروں کی فہرست بی جے پی کو دیکھنی چاہئے
عظیم شخصیات کی مذہب کی بنیادپرتقسیم بی جے پی کی غلیظ سیاست کا حصہ ہے
ممبئی:عظیم تاریخی شخصیات کی مذہب کے نام پر تقسیم کرنا، منافرت پھیلاکر پولرائزیشن کی سیاست کرنا بی جے پی کی غلیظ اور گھٹیا ذہنیت کی علامت ہے۔ 2017میں کرناٹک اسمبلی میں صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند نے ٹیپوسلطان کا فخریہ تذکرہ کیا تھا اور ان کی شان بیان کی تھی، کیا یہ بات بی جے پی بھول گئی؟ یہ سخت سوال آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری سچن ساونت نے کہی ہیں۔
شیرمیسورٹیپوسلطان کا نام پر ایک پارک کانام رکھنے پر اعتراض کررہی بی جے پی پرتنقید کرتے ہوئے سچن ساونت نے مزید کہا ہے کہ تاریخ کو سیاہ وسفید خانون میں بانٹ کر ٹیپوسلطان کے نام کی بی جے پی مخالفت کررہی ہے،لیکن کوللور میں شری مکامبیکا مندرکے پجاری ٹیپوسلطان کی شان میں روزآنہ شام کو ساڑھے سات بجے ’سلام منگل آرتی‘ کرتے ہیں۔ننجن گڈ کے شری کنٹھیشور مندر میں ٹیپو کے ذریعہ دیا گیا پنّا کے لِنگا کی پوجا آج بھی کی جارہی ہے۔جن نیتا جی سبھاش چندربوس کے ہولوگرام کا افتتاح مودی نے کیا، وہی نیتاجی ٹیپوسلطان کا شہید کے طور پر ذکر کرتے ہیں اور آزاد ہندفوج کا علم اور وردی پر ٹیپو سلطان کے میسور ٹائیگر کو شامل کیا تھا۔ جب پیشوا کی فوج نے انگریزوں کے ساتھ مل کر سرینگری مٹھ کو منہدم کر دیا تو ٹیپو سلطان نے اس مٹھ کی دوبارہ مرمت اور اس کی حفاظت کی تھی۔ ساونت نے یاد دلایا کہ میسور گزٹ میں 156 ؍مندروں کی فہرست دی گئی ہے جن کی مدد ٹیپو سلطان نے کی تھی۔انہوں نے کہا کہ ’ہندوستان میرا ملک ہے اور تمام ہندوستانی میرے بھائی ہیں‘۔یہ عہد لینے والے وتکثریت میں وحدت کی علامت ترنگا کے تین رنگوں سے محبت کرنے والے ہرہندوستانی کو بی جے پی وآرایس ایس کی مکروہ وغلیظ سوچ کی سخت مخالفت کرنی چاہئے۔