ایس ٹی ملازمین سے جمع کئے گئے پیسوں کے معاملے میں سدابھاؤ کھوت اور پڈلکر سے بھی تفتیش ہونی چاہیے: اتل لونڈھے
ممبئی:ایس ٹی ملازمین کے پانچ ماہ کے احتجاج کے دوران ان میں سے ہر ایک سے 550 روپے لیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ ایسے میں اب ریاستی کانگریس کے چیف ترجمان اتل لونڈھے نے ایس ٹی ملازمین کی تحریک میں شامل ہونے والے سابق ریاستی وزیر سدبھاؤ کھوت اور بی جے پی ایم ایل اے گوپی چند پڈلکر کے کردار پر سوال اٹھائے ہیں۔ لونڈھے نے کہا ہے کہ اس معاملے میں سدابھاؤ کھوت اور گوپی چند پڈلکر سے بھی پوچھ گچھ کی جانی چاہئے کہ ان جمع کئے گئے پیسوں میں سے انہوں نے کتنا لیا اور کس بنیاد پر یہ وصولی کی گئی تھی۔
اتل لونڈھے نے کہا کہ ہزاروں ایس ٹی ملازمین نے اپنے مطالبات کو لے کر آزاد میدان میں پانچ ماہ تک دھرنا دیا۔ اس دوران مہاوکاس اگھاڑی حکومت شروع سے ہی ایس ٹی کارکنوں کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ کھڑی رہی جبکہ اجرت میں اضافہ سمیت دیگر مطالبات کو تسلیم کیا ہے۔ لیکن اس درمیان میڈیا میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہر ملازم سے 550 روپے لیے گئے ہیں۔اس تحریک کی قیادت سابق ریاستی وزیر سدابھاؤ کھوت اور ایم ایل اے گوپی چند پڈلکر کر رہے تھے۔ ایسے میں کیا ان دونوں ایم ایل اے کو بھی اس وصولی میں سے اپنا حصہ ملا ہے؟ اتل لونڈھے نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ کیا سدبھاؤ کھوت اور گوپی چند پڈلکر نے ایس ٹی ملازموں کے وکیل گنرتنا سداورتے کے ساتھ رقم کے لین دین پر تنازعہ کے بعد تحریک چھوڑ دی تھی؟ انہوں نے کہا کہ ان دونوں لیڈروں مہاراشٹرکی عوام کو جواب دینا چاہئے۔