MPCC Urdu News 9 Nov 22

12

اپنے دل سے ڈر نکال دو تو نفرت پیدا ہی نہیں ہوگی: راہل گاندھی

بی جے پی وآر ایس ایس ڈر کے ذریعے نفرت پیدا کرتی ہے اورمیڈیا اس نفرت کو پھیلاتا ہے

ناندیڑ ضلع کے کرشنور میں راہل گاندھی کا خطاب

؎ عوام کا عدیم المثال تعاون،ہزاروں لوگ صبح سے ہی سڑکوں کے دونوں طرف کھڑے نظر آئے

ناندیڑ:کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے آج یہاں مرکز کی مودی حکومت پر زبردست تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت لوگوں میں ڈر پیدا کرنا چاہتی ہے۔ پھر اس ڈر کو وہ نفرت میں تبدیل کرتی ہے جسے میڈیا پھیلاتا ہے۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ نفرت نہ پھیلے اور بھات نہ ٹوٹے تو ہمیں اپنے دلوں سے ڈر کو نکالنا ہوگا۔ اگر ہمارے دلوں میں ڈر نہیں ہوگا تو نفرت پیدا ہی نہیں ہوگا۔ اس لیے کسی سے نہ ڈرئے۔بی جے پی وآرایس ایس کے لوگ ملک میں نفرت اور تشدد پھیلانا چاہتے ہیں۔ ہمیں اپنے اندر سے ڈر کو نکال کر ان کی اس کوشش کوناکام کرنا ہے۔وہ یہاں کرشنور میں ایک جلسہئ عام سے خطاب کررہے تھے۔

اس جلسے میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے تنظیمی امور کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال، مہاراشٹر کانگریس کے انچارج ایچ کے پاٹل، ریاستی کانگریس کے صدر ناناپٹولے، سابق وزیراعلیٰ پرتھوی راج چوہان، ممبرپارلیمنٹ رجنی پاٹل، سابق ویزر وجئے ویڈیٹی وار، سابق ریاستی صدر مانک راؤ ٹھاکرے، سابق ایم پی سنجئے نروپم، ممبئی کانگریس کے صدر بھائی جگتاپ وغیرہ موجود تھے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت صرف اپنے تین چاردوستوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے کام کررہی ہے۔ مہاراشٹر کے بڑے بڑے پروجیکٹ گجرات چلے گئے، ایئربس کا پروجیکٹ گجرات چلا گیا، ویدانتافاکسکان کا پروجیکٹ گجرات چلا گیا، لیکن کیسے گیا کسی کو نہیں معلوم۔ یہ پروجیکٹ گجرات لے جاکر بی جے پی نے مہاراشٹر کے نوجوانوں سے ان کے روزگار کا حق چھین لیا۔ بہت جلد یہ پروجیکٹ بھی مودی جی اپنے کسی دوست کے حوالے کردیں گے۔سچائی یہ ہے کہ نریندرمودی پورے ملک کو اپنے دوستوں کے حوالے کررہے ہیں۔ راہل گاندھی نے بھارت جوڑو یاترا میں لوگوں کے شریک ہونے پر ان کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ ہم روزآنہ سا ت آٹھ گھنٹے چلتے ہیں، اس دوران کسان، محنت کش، غریب، نوجوان، شواتین وبچے ہم سے ملتے ہیں۔ان کی باتوں سے ہمیں سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ پیدل چلنے وگاڑی سے چلنے میں بڑا فرق ہے۔ اگر ہندوستان کو سمجھنا ہے تو سڑکوں پر پیدل چلنا ہوگا۔ سڑکوں سے ہی ریاستوں کی ترقی کا اندازہ ہوجاتا ہے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ کسانوں ونوجوانوں سے جب ان کے مسائل سنتا ہوں توبہت دکھ ہوتا ہے۔ ۶سال قبل نوٹ بندی کی گئی تھی جس کے اثرات آج تک نظر آرہے ہیں۔ سچائی یہ ہے کہ نوٹ بندی وجی ایس ٹی ملک کی معیشت پر ایک سونامی کی طرح تھی جس سے وہ تباہ ہوگئی۔ انہو ں نے ملک کے پروجیکٹ وادارے صنعتکاروں کو فروخت کئے جارہے ہیں۔ لوگوں کے پاس ملازمتیں نہیں ہیں جس سے بیروزگاری بڑ ھ گئی ہے۔ پٹرول، ڈیزل وگیس کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ ایک جانب مہنگائی تو دوسری جانب بیروزگاری میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ لیکن عوام کی آواز مودی حکومت نہیں سنتی ہے۔ اگر پارلیمنٹ میں سوال اٹھایا جاتا ہے تو فوراً مائک بند کردیا جاتا ہے۔ ملک کے نوجوان فوج میں بھرتی ہوکر ملک کی خدمت کرنا چاہتے ہیں لیکن نریندرمودی نے اس پر بھی پانی پھیرتے اس خدمت کو بھی چارسال کے لیے محدود کردیا۔

واضح رہے کہ مہاراشٹر میں گزشتہ تین دنوں سے جاری راہل گاندھی کی پدیاترا میں عوام کا عدیم المثال تعاون دیکھا جارہا ہے۔ ناندیڑ ضلع کے ناندگاؤں تک کی اس پدیاترا میں راہل گاندھی کا استقبال کرنے کے لیے لوگ صبح سے سڑکوں کے دونوں کنارے پر کھڑے نظر آئے۔ ابھی سورج کا طلوع بھی نہیں ہوا تھا اور ہلکی دھندلی روشنی گلابی سردی کے ساتھ مل کر ہوا کو تازہ کررہی تھی کہ راہل گاندھی کا استقبال کرنے کے لئے لوگ امڈ پڑے۔یہ منظر ناندگاؤں سے کرشنور تک تھا جہاں راہل گاندھی کی آج کی پدیاترا ختم ہونے والی اور جہاں راہل گاندھی ایک کارنرمیٹنگ سے خطاب کرنے والے جوایک بڑے جلسہئ عام تبدیل ہوگیا۔