من پسند سپلائر کے لیے ٹینڈر کی شرائط میں تبدیلی، ملی بھگت سے بدعنوانی
ریاست میں کسان خودکشیاں کر رہے ہیں جبکہ مہایوتی حکومت کسانوں کے وسائل لوٹنے میں مصروف
ممبئی: مہاراشٹر میں کسانوں کی خودکشیوں کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا، مگر بی جے پی کی زیرقیادت مہا یوتی حکومت کسانوں کی بہبود کے بجائے محض تشہیری مہم میں مصروف ہے۔ کسانوں کو مالی امداد دینے کے بلند بانگ دعوے کیے گئے، لیکن حقیقت میں محکمہ زراعت کے افسران اور وزراء نے ملی بھگت سے گھوٹالہ کرتے ہوئے اپنے خزانے بھر لیے۔ نینو یوریا اور نینو ڈی اے پی کی خریداری میں 158 کروڑ روپے کے معاہدے میں 87 کروڑ روپے کا بدعنوانی کی گئی ہے۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے حکومت کو چیلنج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس اس کرپشن کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کروانے کی جرأت دکھائیں۔
نانا پٹولے نے محکمہ زراعت میں بدعنوانیوں کو بے نقاب کرتے ہوئے نینو یوریا اور نینو ڈی اے پی کی خریداری میں ہونے والے گھوٹالے کا پردہ فاش کیا ہے۔ یہ بدعنوانی ’مہاراشٹر ایگریکلچر انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن‘ کے ذریعے ناگپور کی کمپنی ’پالیوال مہیشوری ہاؤس آف بزنس اینڈ ریسرچ‘ کے توسط سے کی گئی۔ کارپوریشن نے نینو یوریا اور نینو ڈی اے پی کی تیاری کے لیے خام مال کی خریداری کے نام پر پیشگی طور پر 158.79 کروڑ روپے ادا کیے، جبکہ حقیقت میں ان مصنوعات کو ایف ایف سی او (IFFCO) سے خرید کر کسانوں تک پہنچایا جانا تھا۔ اس عمل میں خام مال کی خریداری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ خریداری کا عمل زرعی محکمہ کی دیگر کارروائیوں کی طرح لوک سبھا انتخابات کے ضابطہ اخلاق کے نفاذ کے دوران الیکشن کمیشن کی اجازت کے بغیر غیر قانونی طور پر 30 مارچ 2024 کو ٹینڈر جاری کرکے کیا گیا۔
نانا پٹولے نے اس ضمن میں تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’مہاراشٹر ایگریکلچر انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن‘نے ٹینڈر میں دی گئی قیمتوں کے مطابق نینو یوریا پلس 220 روپے فی 500 ملی لیٹر بوتل اور نینو ڈی اے پی 590 روپے فی 500 ملی لیٹر بوتل کے حساب سے حکومت کو 39 لاکھ 25 ہزار 866 بوتلوں کی فراہمی کی۔ جبکہ نینو یوریا کی آن لائن قیمت 93 روپے اور نینو ڈی اے پی کی آن لائن قیمت 273 روپے تھی۔ ’مہاراشٹر ایگریکلچر انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن‘ نے ٹینڈر میں دی گئی قیمتوں کے مطابق (نینو یوریا 220 روپے فی 500 ملی لیٹر بوتل اور نینو ڈی اے پی 590 روپے فی 500 ملی لیٹر بوتل) اوسطاً 222 روپے فی بوتل زیادہ قیمت پر خرید کر 87 کروڑ 15 لاکھ 42 ہزار 252 روپے کی کرپشن کی۔
نانا پٹولے نے کہا کہ آئی ایف ایف سی او ’مہاراشٹر ایگریکلچر انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن‘ کا ڈسٹریبیوٹر ہے اور 2023-24 میں دیگر اشیاء آئی ایف ایف سی او سے براہ راست خرید کر حکومت کو فراہم کی جارہی تھیں، لیکن کارپوریشن نے 2024-25 کے لیے 38 لاکھ بوتلوں کی سپلائی کے لیے ٹینڈر جاری کیا، جو حیران کن اور مشکوک ہے۔ ٹینڈر کی شرائط کے مطابق یہ ٹینڈر صرف ان پروڈیوسرز کے لیے تھا جن کا کاروبار 50 کروڑ روپے تھا، لیکن شرط میں نرمی کرکے صرف 1 کروڑ روپے کا کاروبار رکھنے والوں کو بھی اہل قرار دے دیا گیا اور پروڈیوسر/ وینڈر/ پروڈیوسرکا مجاز نمائندہ جیسی ترمیمات کی گئیں۔ ٹینڈر کے مطابق صرف وہ کمپنیاں ٹینڈر کے لیے اہل سمجھی جائیں گی جن کے پاس ’کرشی آیوکت‘ پونے سے حاصل کردہ فروخت کا لائسنس ہوگا، مگر پالیوال اور دیگر سپلائرز کے پاس یہ لائسنس موجود نہیں تھا۔ اس کے باوجود انہیں اہل قرار دیا گیا۔ نینو ڈی اے پی کے ٹینڈر میں صرف ایک بولی دہندہ (پالیوال) نے حصہ لیا، جسے بلامقابلہ کامیاب قرار دے کر سپلائی آرڈر جاری کیا گیا۔ نینو یوریا کے معاملے میں کم ترین بولی دہندہ (L1) ہونے کے باوجود ’رے نینو سائنس‘ کو آرڈر نہیں دیا گیا، بلکہ اسی کے نرخ پر پالیوال کو سپلائی کا موقع فراہم کیا گیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کسی بھی دوسرے بولی دہندہ نے اس دھاندلی کے خلاف کوئی شکایت نہیں کی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ تمام سپلائرز نے افسران کی ملی بھگت سے اس گھوٹالے کو عملی جامہ پہنایا۔
نانا پٹولے نے مطالبہ کیا کہ اس گھوٹالے میں ملوث ’مہاراشٹر ایگریکلچر انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن‘کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر منگیش گونداولے، جنرل منیجر (اکاؤنٹس و فائنانس) سوجت پاٹل اور ڈپٹی جنرل منیجر (فرٹیلائزرز) مہندر دھاندے کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب ریاست میں کسان روزانہ خودکشیاں کر رہے ہیں، تب حکومت کسانوں کے نام پر کرپشن کرنے میں مصروف ہے۔ ایسے بدعنوان افسران اور وزراء کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے، تاکہ مستقبل میں کسانوں کے مفادات کے ساتھ کھلواڑ نہ کیا جا سکے۔