بی جے پی کا 400 پار کا رتھ مہاراشٹر نے روکا، مہایوتی حکومت سب سے بدعنوان حکومت: رمیش چنیتھلا
چھترپتی شیواجی مہاراج کے مہاراشٹر کو بی جے پی کی مہایوتی حکومت نے گجرات کے پاس گروی رکھ دیا ہے: نانا پٹولے
ریاستی کانگریس کے ایس سی شعبہ کی ریاستی سطح کی ’وجے سنکلپ‘ اجلاس کا انعقاد
ممبئی: بھارتیہ جنتا پارٹی کے 400 پار کے رتھ کو مہاراشٹر نے ہی روکا۔ کانگریس پارٹی ایس سی، ایس ٹی، پسماندہ طبقات کو ترجیح دیتی ہے۔ لوک سبھا انتخابات میں ان برادریوں کی نمائندگی بڑھی ہے اور اسمبلی انتخابات میں بھی لوک سبھا جیسی کامیابی حاصل کرنی ہے۔ ایس سی ایس ٹی زمرہ کی 54 سیٹیں ہیں اور ان سیٹوں پر زیادہ سے زیادہ سیٹیں جیتنے کے لیے کام کرنا ہوگا۔ یہ باتیں مہاراشٹر پردیش کانگریس کے انچارج رمیش چنیتھلا نے پارٹی کے ایس سی شعبہ کے ریاستی سطح کے اجلاس ’وجے سنکلپ‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔
ریاستی کانگریس کے ایس سی شعبہ ’وجے سنکلپ‘ جلسے کا انعقاد یشونت راؤ چوہان پرتسٹھان میں منعقد ہوا۔ اس جلسے میں ریاستی کانگریس کے انچارج رمیش چنیتھلا، ریاستی صدر نانا پٹولے، اپوزیشن لیڈر وجے ودیٹی وار، آل انڈیا ایس سی شعبے کے صدر راجیش للوتھیا، سابق ایم پی حسین دلوائی، ممبئی کانگریس کی صدر ایم پی ورشا گائیکواڈ، سابق وزیر ڈاکٹر نتن راؤت، انیس احمد، ایم ایل اے راجیش راٹھوڑ، ایس سی شعبے کے ریاستی صدر سدھارتھ ہتی امبیرے، ریاستی نائب صدر نانا گاونڈے وغیرہ موجود تھے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے رمیش چنیتھلا نے کہا کہ مختلف ریاستوں میں ریزرویشن کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے، اگر زیادہ سے زیادہ کمیونٹی کو ریزرویشن سے فائدہ اٹھانا ہے تو ذات پرمبنی مردم شماری کرانی ہوگی اور 50 فیصد کی حد کو ہٹانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی جب وزیراعظم بنے تو پہلی بار پارلیمنٹ کے سامنے جھک گئے اور پارلیمنٹ کی عمارت بدل دی اس بار مودی نے آئین کے سامنے سر جھکا دیا اب ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کا آئین ختم ہونے جا رہا ہے۔ رمیش چنیتھلا نے کہا کہ مہاراشٹر کی مہایوتی حکومت ملک کی سب سے زیادہ بدعنوان حکومت ہے۔ ترقی کے نام پر لوگوں کو لوٹا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اجیت پوار پر 70 ہزار کروڑ روپئے کی بدعنوانی کا الزام لگایا، پرفل پٹیل پر بدعنوانی کا الزام لگایا اور انہیں بی جے پی میں شامل کرلیا۔
اس موقع پر ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہا کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ذات پر مبنی مردم شماری کا معاملہ لوک سبھا میں اٹھایا۔ بہوجنوں کا معاشی، سماجی و تعلیمی سروے کرایا جائے تو ہی انصاف ملے گا، لیکن بی جے پی اور مودی حکومت اس کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے یو پی اے حکومت کے ذریعہ لائے گئے خواتین کے ریزرویشن بل کی مخالفت کی تھی اور اسی بل کو بی جے پی نے منظور کیا تھا لیکن لاگو نہیں کیا۔ خواتین کے ریزرویشن کو لاگو نہ کرکے مرکز کی بی جے پی حکومت نے بہنوں کے ساتھ ناانصافی کی ہے اور ریاست میں بی جے پی لاڈلی بہین کے نام پر خواتین کا استحصال کر رہی ہے۔ نانا پٹولے نے کہا کہ مہایوتی اسمبلی میں 100 سیٹیں بھی نہیں جیت سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ چھترپتی شیواجی مہاراج کے مہاراشٹر کی بی جے پی کی مہایوتی حکومت نے گجرات کے پاس گروی رکھ دیا ہے۔ اگر بی جے پی کی مہایوتی حکومت مہاراشٹر سے ختم ہوتی ہے تو دہلی میں بھی حکومت گر جائے گی اور ذات پرمبنی مردم شماری کا راستہ صاف ہو جائے گا۔
اس جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ایس سی شعبہ کے قومی صدر راجیش للوتھیا نے کہا کہ بی جے پی نے لوک سبھا انتخابات میں 400 سیٹیں جیت کر آئین کو بدلنے کا بیانیہ پھیلایا تھا لیکن راہل گاندھی کی قیادت میں اس نے آئین کی حفاظت کا بیڑا اٹھایا اور بی جے پی کے اس منصوبے کو عوام نے ناکام بنا دیا۔ ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر کے آئین کی کانگریس اور انڈیا الائنس نے حفاظت کی۔ لوک سبھا انتخابات میں کانگریس نے 99 سیٹیں جیتی ہیں، جن میں سے 37 سیٹیں ایس سی اور ایس ٹی کمیونٹی کی ہیں۔ للوتھیا نے مہاراشٹر کے محکمہ ایس سی کے عہدیداروں سے اپیل کی کہ وہ مہاراشٹر میں کانگریس کی حکومت لانے کے لیے کام کریں۔
رکن پارلیمنٹ ورشا گائیکواڑ نے کہا کہ ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کی آئین کو بدلنے کی بیان بازی نے بی جے پی کو سبق سکھایا اور مودی حکومت این ڈی اے کی حکومت بن گئی۔ انہوں نے کہا کہ مہایوتی کی حکومت صرف ٹھیکیداروں کی جیبیں بھر رہی ہے اور خود فائدہ حاصل کر رہی ہے۔اگر بی جے پی مہاراشٹر سمیت چار ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں ہار جاتی ہے تو مرکز کی این ڈی اے حکومت بھی ہل جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا میں شدید مخالفت کی وجہ سے 10 سال بعد بھی سرکاری بل منظور نہیں ہو سکا۔ حکومت کو وقف بورڈ ترمیمی بل کو مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس بھیجنا پڑا۔
اس موقع پر سدھارتھ ہتی امبیرے نے کہا کہ 10 سال سے بی جے پی حکومت کی وجہ سے پسماندہ سماج کئی اسکیموں سے محروم ہے۔ لوک سبھا انتخابات میں ریاست کے دلت اور پسماندہ طبقات کانگریس اور مہاوکاس اگھاڑی کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے تھے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پسماندہ طبقات کے لوگوں کو انتخابات میں موقع دیا جانا چاہیے۔
MPCC Urdu News 9 August 24.docx