’جن سرکشا قانون‘ آمرانہ ذہنیت کی انتہا ہے، یہ 1919 کے برطانوی رولٹ ایکٹ کا نیا روپ ہے: ہرش وردھن سپکال
فڈنویس کی آمرانہ سازشوں کو ناکام بنانا ہی جمہوریت کا تحفظ ہے، کانگریس اس سیاہ قانون کی شدید مخالفت کرے گی
ہندوستان گاندھی کے نظریات کا ملک ہے، آر ایس ایس اور بی جے پی کی زہریلی سوچ کو ملک قبول نہیں کرے گا
ہندی مسلط کرنے کے معاملے پر آر ایس ایس کا کردار دوغلا اور منافقانہ ہے
ممبئی/نئی دہلی: 8 جولائی 2025
مہاراشٹر میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی زیرقیادت حکومت جس ’جن سرکشا قانون‘ کو نافذ کرنے کی تیاری کر رہی ہے، وہ جمہوریت کو کچلنے کی ایک سنگین کوشش ہے۔ یہ قانون وہی آمرانہ سوچ لے کر آیا ہے جو 1919 میں برطانوی حکومت نے رولٹ ایکٹ کے ذریعے دکھائی تھی، جب بغیر کسی سماعت کے کسی بھی فرد کو جیل بھیجا جا سکتا تھا۔ نیا جن سرکشا قانون اسی خطرناک روایت کو آگے بڑھانے کی کوشش ہے۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کے صدر ہرش وردھن سپکال نے واضح کیا ہے کہ کانگریس اس عوام دشمن، آئین مخالف قانون کی بھرپور مخالفت کرے گی اور عوام کو بھی اس کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی۔
سپکال نے دہلی میں واقع مہاراشٹر بھون میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس اس قانون کو ’شہری نکسل ازم‘ سے نمٹنے کے بہانے لا رہے ہیں، جب کہ مرکزی حکومت خود آر ٹی آئی کے ذریعے تسلیم کر چکی ہے کہ ’شہری نکسل ازم‘ جیسی کوئی اصطلاح سرکاری طور پر موجود نہیں ہے۔ فڈنویس کے ذہن میں جو ’شہری نکسل ازم‘ بسا ہوا ہے، اسی کی آڑ میں آشاڑھی واری، وارکری سنت پرمپرا، ادیبوں، اور شیواجی، پھولے، شاہو، امبیڈکر کی فکری روایت کو بدنام کیا جا رہا ہے۔ جو کوئی بھی ذات پات، ناانصافی یا صنفی عدم مساوات کے خلاف آواز بلند کرتا ہے، اسے ’نکسل وادی‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ سلسلہ اگر اسی طرح جاری رہا تو کل کو سنت گیانیشور، سنت تکرام، گاڈگے بابا، تُکڈوجی مہاراج، مہاتما گاندھی اور سبھاش چندر بوس جیسے عظیم رہنماؤں کے نظریات کو بھی نکسل ازم کہہ کر دبا دیا جائے گا۔ سپکال نے مزید کہا کہ اس قانون کے تحت حکومت کسی بھی تنظیم، اس کے عطیہ دہندگان یا ارکان کو بغیر تحقیق یا سماعت کے جیل بھیج سکتی ہے۔ یہ قانون غیر ضمانتی اور سنگین جرم قرار دیا گیا ہے، جس کے ذریعے حکومت اپنی تنقید کو دبانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ کانگریس پارٹی اس قانون کے خلاف بھرپور تحریک چلائے گی۔
سنگھ اور بی جے پی گاندھی کے نظریات سے خائف ہیں
حال ہی میں پونے میں مہاتما گاندھی کے مجسمے پر دھار دار اسلحہ سے حملے کے واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے سپکال نے کہا کہ 1948 میں مہاتما گاندھی کو قتل کیا گیا، لیکن ان کے نظریات آج بھی آر ایس ایس اور بی جے پی کی فسطائی سوچ پر بھاری ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر گاندھی جینتی یا برسی کے موقع پر ان کے مجسموں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، اور ان کی توہین کرنے والوں کو بی جے پی میں اعلیٰ عہدے دیے جاتے ہیں۔ پونے کا یہ واقعہ آر ایس ایس اور بی جے پی کے ہاتھوں برسوں سے بوئی گئی نفرت کی فصل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح پربھنی میں بابا صاحب امبیڈکر کے مجسمے میں موجود آئین کی نقل کو جلانے والے کو ’ذہنی مریض‘ کہا گیا، اسی طرح پونے میں حملہ آور کو بھی ذہنی مریض قرار دے کر بچانے کی کوشش کی جائے گی۔ آر ایس ایس اور بی جے پی کو گاندھی اس لیے ناگوار گزرتے ہیں کیونکہ گاندھی نے ’آئیڈیا آف انڈیا‘ کو عوامی شعور میں راسخ کیا، جب کہ آر ایس ایس Bunch of Thoughts نامی کتاب کو ہندوستان پر تھوپنا چاہتا ہے۔
ہندی کے معاملے پر آر ایس ایس کا دوغلا رویہ قابل مذمت ہے
مراٹھی بمقابلہ ہندی کے تنازع پر آر ایس ایس کی حالیہ بیان پر تنقید کرتے ہوئے سپکال نے کہا کہ سنگھ کا رویہ سراسر منافقانہ ہے۔ اگر واقعی وہ مادری زبان میں تعلیم کے حامی ہے، تو سب سے پہلے اسے اپنی Bunch of Thoughts کو نذر آتش کرنا چاہیے۔ اگر وہ واقعی ’ایک ملک، ایک زبان، ایک انتخاب، ایک لباس‘ جیسے خیالات کے مخالف ہیں تو انہیں کھلے عام ان خیالات سے لاتعلقی ظاہر کرنی چاہیے۔ سپکال نے کہا کہ ہندی مسلط کرنا آر ایس ایس کا پرانا ایجنڈا ہے، جس کی مہاراشٹر کی عوام نے ہمیشہ مخالفت کی ہے۔ سنگھ نے وقتی طور پر پیچھے ہٹنے کا دکھاوا کیا ہے، لیکن وہ دوبارہ ’ہندی – ہندوتوا – ہندو راشٹر‘ کا ایجنڈا مسلط کرنے کی کوشش کریں گے، اور ہم کانگریس کی جانب سے ایک بار پھر انہیں ناکام بنائیں گے، یہ دو ٹوک پیغام سپکال نے دیا۔
مہاراشٹر میں مراٹھی شناخت کے تحفظ کے ساتھ، ممبئی میں تمام ریاستوں کے لوگ خوشی سے رہتے ہیں: رمیش چنّیتھلا
راج ٹھاکرے کی مہاوکاس اگھاڑی میں شمولیت پر ابھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے
ممبئی/دہلی، 8 جولائی 2025 ، ممبئی ملک کا اقتصادی دارالحکومت ہے اور یہاں جنوبی و شمالی ہند کے افراد سمیت ملک کے کونے کونے سے آئے لوگ پرامن اور خوشگوار زندگی بسر کر رہے ہیں۔ یہاں کسی قسم کا لسانی یا علاقائی تنازع نہیں ہے، لیکن مہاراشٹر میں کانگریس پارٹی مراٹھی عوام کے جذبات اور شناخت کے ساتھ پوری طرح کھڑی ہے۔ یہ بات مہاراشٹر کانگریس کے انچارج رمیش چنّیتھلا نے کہی۔
دہلی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے رمیش چنّیتھلا نے مراٹھی ہندی تنازع اور بی جے پی رہنما نشی کانت دوبے کے متنازعہ بیان پر ردعمل دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مہاوکاس اگھاڑی میں راج ٹھاکرے کی شمولیت کے حوالے سے ابھی تک کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے، اور نہ ہی اس پر کوئی رسمی غور و خوض ہوا ہے۔ مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے معاملے پر اظہار خیال کرتے ہوئے چنّی تھلا نے کہا کہ مہاراشٹر میں 75 لاکھ ووٹ کیسے بڑھا دیے گئے، یہی سوال لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن بی جے پی کے لیے کام کر رہا ہے اور انتخابات میں بے ضابطگیاں کرکے جیت حاصل کی جا رہی ہے۔ یہی عمل اب بہار میں بھی دہرایا جا رہا ہے۔
رمیش چینتھلا نے کہا کہ بہار میں دو کروڑ ووٹرز کے اضافے کو لے کر جو سوالات اٹھے ہیں، وہ الیکشن کمیشن کے ہٹ دھرم رویے کا نتیجہ ہیں۔ یہ سب کچھ بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ انتخابات میں شفافیت لازمی ہے، لیکن الیکشن کمیشن کا کردار مشکوک بنتا جا رہا ہے۔ چنّیتھلا نے کہا کہ اس پورے معاملے پر ہم عدالت سے رجوع کریں گے تاکہ جمہوریت کے بنیادی اصولوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ کانگریس پارٹی انتخابی عمل کی شفافیت اور آئینی اقدار کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے، اور بی جے پی کی سازشوں کو ہر سطح پر بے نقاب کیا جائے گا۔