- مرکزی حکومت اور صنعت کاروں کے اشارے پر کرناٹک حکومت کی غنڈہ گردی
-
دھاراوی کی زمین صرف 5 ہزار کروڑ میں ایک صنعتکار کو کس بنیاد پر دی گئی؟
-
ای ڈی کی حکومت مہاراشٹر کی تاریخ کی بدترین حکومت ہے
ممبئی:کرناٹک کی بی جے پی حکومت سرحدی علاقوں میں جان بوجھ کر ماحول کو خراب کر رہی ہے۔ کرناٹک میں مراٹھی لوگوں کو مارا پیٹا جا رہا ہے اور ان کی املاک کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ مہاراشٹر کی عوام کرناٹک کی اس غنڈہ گردی کو قطعی برداشت نہیں کرے گی۔ مہاراشٹرا نے تحمل کا مظاہرہ کیاہے لیکن اگر ہم نے تحمل سے کھودیا تو کرناٹک اور مرکز کی بی جے پی حکومت کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔یہ بات کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہی ہے۔
تلک بھون میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کرناٹک کی طرف سے سرحدی علاقوں میں کئے جا رہے حملے سنگین ہیں اور ہم ان بزدلانہ حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔مودی حکومت اور کچھ صنعت کاروں کے اشارے پر کرناٹک حکومت مہاراشٹر کے خلاف یہ سازش رچ رہی ہے۔ پٹولے نے کہا کہ دونوں ریاستوں کے درمیان تنازعہ پیدا ہونے کے بعد مرکزی حکومت کو اس معاملے میں مداخلت کر کے اسے خوش اسلوبی سے حل کرنا چاہیے تھا، لیکن ایسا ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا ہے۔ کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بومئی آئے دن اشتعال انگیز بیانات دے رہے ہیں لیکن مہاراشٹر حکومت کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آرہا ہے۔ریاست میں جوصورتحال پیدا ہو گئی ہے اس سے یہ سوال پیدا ہونے لگا ہے کہ مہاراشٹر میں کوئی حکومت ہے بھی یا نہیں۔ وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ وہ مودی وشاہ کے مرید بن چکے ہیں، اس لیے ان سے کوئی امید نہیں ہے۔ لیکن مہاراشٹر کی عوام اور کانگریس پارٹی کرناٹک کی غنڈہ گردی کوقطعی برداشت نہیں کرے گی۔ وقت آنے پر ہم کرناٹک کی اس غنڈہ گردی کا منہ توڑ جواب دیں گے۔
کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ دھاراوی باز آبادکاری پروجیکٹ کے تحت بی جے پی حکومت نے سیکڑوں ایکڑ زمین 5000 کروڑ روپے میں ایک صنعتکار کے حوالے کردی ہے۔ہم حکومت سے پوچھتے ہیں کہ کیا اس کے لیے کوئی ٹینڈر کا عمل اپنایا گیا تھا؟ اس قدر بیش قیمتی زمین کس بنیاد پر ایک صنعتکار کو دی گئی ہے؟ ریاستی اور مرکزی حکومت نے اس عمل کو کیسے اچانک گرین سگنل دے دیا؟۔پٹولے نے کہا کہ دھاروی بازآبادکاری پروجیکٹ کے لیے دبئی کی سی لنک نامی کمپنی نے 7,500 کروڑ روپے کا ٹینڈر پیش کیا تھا لیکن بعد میں حکومت کے ذریعے اسے رد کر دیا گیا۔ مہاراشٹر کی حکومت نے ریلوے کی زمین کے لیے 700 کروڑ روپے ادا کیے تھے لیکن اس وقت ریلوے نے مہاراشٹر کی حکومت کو زمین نہیں دی تھی۔ اب ایسا کیا ہوا کہ یہ زمین ریاستی حکومت کو دے دی گئی؟حکومت کو اس کا جواب دیناپڑے گا۔ سرمائی اجلاس میں ہم حکومت سے اس سوال کا جواب ضرور طلب کریں گے۔
نانا پٹولے نے کہا کہ بی جے پی ایک صنعتکار کو زمین دے کر ممبئی کو لوٹنا چاہتی ہے۔ ممبئی ایئرپورٹ بھی اسی صنعتکار کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ آنے والے دنوں میں بی جے پی ممبئی میں کولیواڑہ کی زمین بھی اسی صنعتکار کو دے سکتی ہے۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ مرکز اور ریاست کی بی جے پی حکومت صنعت کاروں کے فائدے کے لیے سب کچھ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھاراوی کا معاملہ بہت اہم ہے اور ہم 17 مارچ کو ہونے والی ایم وی اے کی میٹنگ میں اس معاملے پر غور کریں گے۔ پٹولے نے کہا کہ مہاراشٹر کی موجودہ صورتحال اور ریاستی حکومت کے رویے کے پیشِ نظر شندے-فڈنویس کی ای ڈی حکومت مہاراشٹر کی تاریخ کی اب تک کی سب سے بدترین حکومت ثابت ہوئی ہے۔