گونڈ-گواری طبقے کے مطالبات پر مہابدعنوان حکومت کوتوجہ دینے کا وقت نہیں: ناناپٹولے
ناگپور میں 11 دنوں سے بھوک ہڑتال کرنے والوں کے تئیں حکومت اور انتظامیہ کی ناقابل معافی غفلت
ناگپور/ممبئی: گونڈ -گواری برادری کے تین نوجوان ناگپور کے سنویدھان چوک پر 11 دنوں سے بھوک ہڑتال کیےہوئے ہیں، لیکن حکومت یا انتظامیہ کی طرف سے کوئی بھی ان کا نوٹس نہیں لے رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے اس پر توجہ نہ دینے کی وجہ سے ہزاروں گونڈ -گواری طبقے کے لوگ ناگپور میں جمع ہو گئے ہیں۔ اس سماج کی چیخ و پکار اندھی، بہری اور گونگی بی جے پی حکومت کے کانوں تک نہیں پہنچ رہی ہے۔ کیا قبائلی لوگ اس ریاست کے شہری نہیں ہیں؟دوسری پارٹیوں کوتوڑنے پھوڑنے، غنڈہ گردی و وصولی سے تھوڑا وقت نکال کر گونڈ-گواری طبقے کے مطالبات پر بھی توجہ دیجئےاور انہیں منظور کیجئے۔ یہ مطالبہ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کیا ہے۔
نانا پٹولے نے ناگپور کے سنویدھان چوک پر بھوک ہڑتال کرنے والے لوگوں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ناگپور کانگریس کے صدر ایم ایل اے وکاس ٹھاکرے، مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری اور سوشل میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ وشال متیموار ان کے ساتھ موجود تھے۔ اس موقع پرمیڈیا سے بات کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ گونڈ-گواری قبیلے کو درج فہرست قبائل کے تمام فوائد دئیے جانے چاہئیں اور انہیں ایک درستی کا سرٹیفکیٹ بھی دیا جانا چاہئے۔ وہ مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ گونڈ-گواری ذات کے سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر ڈگری اور دیگر اعلیٰ تعلیم کے لیے داخلہ لینے والے طلبہ کے غیر قانونی طور پر روکے گئے اسکالرشپ کو بلا تاخیر دیا جائے، لیکن بی جے پی حکومت کے پاس ان مطالبات پر توجہ دینے کے لیے وقت نہیں ہے۔ ریاست کی بدعنوان مخلوط حکومت آپس میں ہی لڑنے میں مصروف ہے۔
ناناپٹولے نے کہا کہ حکمراں جماعت کا ایک ایم ایل اے دوسری پارٹی کے لیڈر کوپولیس اسٹیشن میں ہی گولی مار دیتا ہے، حکمراں پارٹی کا وہی ایم ایل اے وزیر اعلیٰ پر سنگین الزامات لگاتا ہے۔ ایک وزیر نے مراٹھا او بی سی ریزرویشن پر حکومت کے فیصلے کے خلاف عوامی موقف اختیار کرتا ہے۔ اس حکومت میں کوئی کوآرڈینیشن نہیں ہے،بس کرسی کی لڑائی جاری ہے، شندے-فڑنویس اور اجیت پوار کی حکومت کے پاس عوام کے سوالوں پر توجہ دینے کا وقت نہیں ہے۔کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڈویس کا تعلق ناگپور سے ہے لیکن یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ 11 دنوں کے دوران انہوں نے گوند -گواری طبقے کی بھوک ہڑتال کا معمولی نوٹس بھی نہیں لیا۔ حکومت کو گونڈ گواری برادری کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو دور کرنے کے لیے ان کے مطالبے کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔
جھارکھنڈ میں راہل گاندھی نے کوئلہ ڈھونے والے مزدروں کے ساتھ سائیکل چلائی
رانچی: کانگریس کی ’بھارت جوڑو نیائے یاترا‘ رفتہ رفتہ اپنی منزل کی طرف بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ یاترا 2 فروری کو جھارکھنڈ میں داخل ہوئی اور پاکوڑ، دھنباد، بوکارو اور رام گڑھ ہوتے ہوئے رانچی پہنچی۔ 4 فروری کو رام گڑھ سے رانچی روانہ ہوئے راہل گاندھی نے راستے میں کوئلہ ڈھونے والے مزدوروں سے بات کی اور ان کی سائیکل بھی چلائی۔
راہل گاندھی نے ان مزدوروں سے ملاقات کی تصویریں شیئر کی ہیں جس میں وہ ان سے بات کرتے اور ان کی سائیکل چلاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر راہل گاندھی نے لکھا ہے کہ ’’سائیکل پر 200-200 کلو کوئلہ لے کر روز 30-40 کلومیٹر چلنے والے ان نوجوانوں کی کمائی برائے نام ہے۔ بغیر ان کے ساتھ چلے، ان کے وزن کو محسوس کیے، ان کے مسائل کو نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان نوجوان محنت کشوں کی زندگی کی گاڑی سست پڑی تو بھارت کی تعمیر کا پہیہ بھی تھم جائے گا۔‘‘
یہ یاترا جب رانچی پہنچی تو راہل گاندھی کے استقبال کے لیے لوگوں کی بھیڑ جمع ہو گئی۔ کانگریس پارٹی کے کارکنان پارٹی پرچم کے ساتھ راہل گاندھی کا انتظار کرتے ہوئے نظر آئے۔ شہر میں راہل اور کانگریس پارٹی کے ہورڈنگس اور بینرس لگائے گئے ہیں۔ رانچی جاتے ہوئے راہل گاندھی راستے میں چتوپلو ویلی کے شہید مقام پر بھی رکے اور شہید ٹکیت امراؤ سنگھ اور شاہد شیخ بھکاری کو خراج عقیدت پیش کیا۔ راہل گاندھی اپنی نیائے یاترا کے ساتھ رانچی ضلع کے ایربا پہنچنے کے بعد اندرا گاندھی ہینڈلوم پروسیس گراؤنڈ میں بنکروں سے بات کی۔ لنچ کے بعد وہ اپنی یاترا کے ساتھ رانچی کے شہید میدان میں ایک جلسہ عام سے خطاب کئے۔ اس جلسے کے لیے لوگوں میں زبر دست جوش وخروش نظر آیا۔