مہاراشٹر کی توہین کرنے والے ’مہاراشٹردروہیوں‘ کو عوام کبھی معاف نہیں کرے گی: بالاصاحب تھورات جوبی جے پی کے دل میں ہے وہی کنگنا کی زبان پر ہے

ممبئی: جو بی جے پی کے دل میں ہے وہی کچھ دنوں سے فلم اداکارہ کنگنا کی زبان اور ٹویٹر سے باہر آرہا ہے۔ کنگنا کو آگے بڑھاکر ممبئی پولیس، مراٹھی عوام اور مہاراشٹر کی توہین کرنے والے مہاراشٹردروہیوں کو چھترپتی شیواجی مہاراج کے مہاراشٹر کی عوام کبھی معاف نہیں کرے گی۔ یہ سخت تنقید مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ووزیرمحصول بالاصاحب تھورات نے کی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ بہار اسمبلی الیکشن کے پیش نظر ممبئی پولیس اور مہاراشٹر کوبدنام کرنے کی منصوبہ سازش کس نے رچی ہے، اس سے مہاراشٹر کی عوام واقف ہے۔ مہاراشٹر وکاس اگھاڑی حکومت کے خلاف سازشیں کرنے والے اب مہاراشٹر اورمراٹھی عوام کے خلاف سازشیں کرنے لگے ہیں۔ کنگنا کے پسِ پشت کون ہے؟ یہ ظاہر ہے۔ اپنے سیاسی مفادکے لیے اس قدر گھٹیا سطح پر جاکر انہوں نے مہاراشٹر کی مٹی سے غداری کی ہے۔

تھورات نے کہا کہ جس ممبئی اور مہاراشٹر نے کنگنا راناوت کو کام، نام، پیسہ اور شہرت دی، اسی ممبئی اور مہاراشٹر کا موازنہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر سے کرنا نہ صرف گھٹیا بلکہ مہاراشٹر کے 13کروڑ عوام کی توہین ہے۔ کنگنا نے جوباتیں کہی ہیں، ان میں سے ایک کی بھی بی جے پی نے مذمت نہیں کی ہے۔ بی جے پی کی خاموشی اس کی حمایت کو ظاہر کرتی ہے۔ سوشانت سنگھ خودکشی کے معاملے کو سیاسی رنگ دے کر اس کا فائدہ اٹھانے کے لیے مہاراشٹر کے وقار کے ٹھیس پہونچانے کے باوجود اس گروہ کا نشہ نہیں اترا ہے۔

بالاصاحب تھورات نے مزید کہا ہے کہ مہاراشٹر میں کانگریس، راشٹروادی کانگریس وشیوسینا کی متحدہ حکومت قائم ہونے کے بعد سے یہ ٹولی بے چین ہے۔ گزشتہ نو مہینے سے ان لوگوں نے اس حکومت کو کسی نہ کسی طرح کمزور کرنے کی اپنی تمام کوششیں کرکے منہ کی کھالی ہے۔ ابتداء میں راج بھون کی آڑ میں حکومت کو غیرمستحکم کرنے کی کوششیں کیں، جس میں انہیں جب کوئی کامیابی نہیں ملی تو کنگنا جیسی فلم اداکارہ کے ذریعے ممبئی پولیس کو بدنام کرنے کی کوششیں کیں اور اب یہ ٹولی ممبئی کو پاکستان مقبوضہ کشمیر تک قرار دینے تک جاپہونچی ہے۔ سچائی یہ ہے کہ بی جے پی کو نہ تو چھترپتی شیواجی مہاراج کا احترام ہے اور نہ ہی مہاراشٹر کی عوام سے کوئی محبت ہے۔ اسے صرف اپنی سیاسی روٹیاں سینکنی ہیں، لیکن انہیں کبھی کامیابی نہیں ملے گی۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading