ممبئی:ممبئی ایئر پورٹ، دھاراوی ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کے بعد اب مرکزو ریاست کی بی جے پی حکومت بجلی کمپنیوں کو بھی اڈانی کی جھولی میں ڈالنے کی تیاری کررہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مہاوترن کمپنی سے وابستہ بجلی کمپنیوں کے ملازمین نجکاری کو روکنے کے لیے بدھ سے ہڑتال پر چلے گئے ہیں۔صرف مہاوترن کی نجکاری کے مقصد سے ہی امبانی-اڈانی کے بیٹوں کو ریاست کے مالیاتی مشاورتی بورڈ میں شامل کیا گیا ہے۔. ایسے میں بڑا سوال یہ ہے کہ کیا شندے-فڈنویس حکومت نے اب مہاراشٹر کو بھی بیچنے کی تیاری کر لی ہے؟ یہ سوال مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ مہاوترن کی نجکاری کے خلاف ملازمین، افسران اور انجینئروں کی طرف سے بلائی گئی تین روزہ ہڑتال کو حکومت روک سکتی تھی۔ ان ملازمین نے ریاستی حکومت کو اپنے مطالبات کو لے کر دو ماہ قبل الٹی میٹم دیا تھا، لیکن اس وقت اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ اب ہڑتال شروع ہونے کے بعد جب مہاراشٹر اندھیرے میں ڈوبنے کا خطرہ پیدا ہوگیاہے تو ریاستی حکومت ہڑتال کرنے والوں کے ساتھ بات چیت کا ڈرامہ کررہی ہے۔ اگر اس سلسلے میں پہلے ہی بات چیت کی گئی ہوتی تو اس ہڑتال کی نوبت ہی نہیں آتی اور مہاراشٹر کے لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ناناپٹولے نے کہا کہ شہری علاقوں میں بجلی کی تقسیم کرنے والی کمپنیوں پر قبضہ کرنے سے نجی کمپنیاں منافع کمائیں گی،
وہیں دیہی علاقوں میں عام لوگوں اور کسانوں کو سبسڈی والی بجلی ملنا بند ہو جائے گی۔ کسانوں اور دیہی عوام کے لیے مہنگی بجلی کا بوجھ برداشت کرنا ممکن نہیں ہے لیکن بی جے پی حکومت کو عوام سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ ملک کوبیچ کر ملک چلانے والی بی جے پی حکومت اب مہاراشٹر کوبھی بیچنے جا رہی ہے۔ ملک کا سب سے اہم ممبئی ایئرپورٹ اور ایشیا کی سب سے بڑی جھگی بستی دھاراوی کے ری ڈیولپمنٹ کا پروجیکٹ اڈانی کو سونپ دیا گیا ہے اور اب مہاوترن کو بھی اڈانی کی جھولی میں ڈالنے کا منصوبہ ہے۔ پٹولے نے کہا کہ بجلی ملازمین کی یہ ہڑتال تنخواہ بڑھانے یا اپنے فائدے کے لیے نہیں ہے بلکہ عام بجلی صارفین کو مستقبل میں ہونے والی تکلیف سے بچانے کے لیے ہے اور ہم ان کی حمایت کرتے ہیں۔
کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ جب سے ریاست میں شندے-فڈنویس کی حکومت بنی ہے، دہلی کے کہنے پر مہاراشٹر کی اہمیت کو کم کیا جا رہا ہے۔ دیگر اہم پروجیکٹس بشمول 1.54 لاکھ کروڑ روپے کے ویدانتا-فوکسکان پروجیکٹ کو گجرات منتقل کردیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے مہاراشٹر کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ لاکھوں نوجوان روزگار کے مواقع سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ اتر پردیش میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے 4 اور 5 جنوری کو ممبئی آ رہے ہیں۔ اس دوران وہ صنعتکاروں اور فلمی دنیا کے اہم لوگوں سے بات چیت کرنے والے ہیں۔ پٹولے نے پوچھا ہے کہ کیا’کھوکے حکومت‘ اب مہاراشٹر کی باقی صنعتوں کو اتر پردیش کے حوالے کرنے کی تیاری کر رہی ہے؟ ایسا لگتا ہے کہ ریاستی حکومت نے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ ریاست کی عوام کوبی جے پی کے اس مکروہ ارادے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔