ساليکسا میں 17 ای وی ایم کی سیل توڑ کر دوبارہ ووٹنگ، مگر ایف آئی آر تک نہیں
ممبئی: حالیہ بلدیاتی انتخابات میں ہونے والی دھاندلی، دباؤ اور کھلی بدعنوانیوں نے پورے انتخابی عمل کی ساکھ پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ گوندیا ضلع کی ساليکسا نگر پنچایت میں ووٹنگ ختم ہونے کے بعد 17 ای وی ایم مشینوں کی سیل توڑ کر دوبارہ ووٹنگ کرائی گئی، جو نہ صرف حیران کن ہے بلکہ جمہوری اقدار کی صریح خلاف ورزی بھی ہے۔ لیکن اس سنگین واقعے پر اب تک ایف آئی آر تک درج نہیں کی گئی۔ ان تمام صورتحال کو جمہوریت کا چیرہرن قرار دیتے ہوئے مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے حکومت اور انتظامیہ پر سخت تنقید کی۔
تلک بھون میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سپکال نے کہا کہ ریاست میں دس سال بعد سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق مقامی بلدیاتی انتخابات ہو رہے ہیں، مگر ان انتخابات میں حزبِ اقتدار، انتظامیہ اور الیکشن کمیشن سب نے مل کر پورے نظام کو مذاق بنا دیا ہے۔ کانگریس مسلسل ووٹر لسٹ میں بے قاعدگیوں، ووٹ چوری اور انتخابی عمل میں بدعنوانی جیسے مسائل اٹھا رہی ہے، مگر کوئی سنوائی نہیں ہو رہی۔ الیکشن کمیشن کو اب بیدار ہونا چاہیے اور اسے ٹی۔ این۔ شیشن جیسے سخت اور باوقار انتخابی کمشنر کی ضرورت ہے۔ کانگریس اسی ووٹ چوری کے خلاف 14 دسمبر کو دہلی میں ملک گیر ریلی منعقد کر رہی ہے۔
سپکال نے ریاست کی بی جے پی حکومت پر کسان دشمنی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ مئی سے اکتوبر تک لگاتار بارشوں سے کھیت تباہ ہو گئے، زمین کٹ گئی اور فصلیں برباد ہو گئیں لیکن حکومت کا 33 ہزار کروڑ کا امدادی پیکیج صرف کاغذات تک محدود ہے۔ مرکز کو معاوضے کی تجویز تک نہیں بھیجی گئی۔ لوک سبھا میں مرکزی وزیر زراعت شیو راج سنگھ چوہان نے خود بتایا کہ ریاست نے کوئی تجویز بھیجی ہی نہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ بی جے پی مہایوتی حکومت کی کسانوں کی مدد کرنے کی نیت ہی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال مکمل کرتے ہی یہ حکومت ذہنی اور معاشی طور پر دیوالیہ ثابت ہو چکی ہے۔ انتخابات سے قبل ’لاڈلی بہنوں‘ کو 2100 روپے، کسانوں کی قرض معافی اور سرکاری ملازمتوں کے وعدے کیے گئے، مگر اب ان وعدوں کی یاد بھی نہیں۔ کویتا گینگ، کھوکے، ’آکا‘، بالو مافیا اور ڈرگ مافیا جیسے معاملات نے حکومت کے دامن پر مزید داغ لگا دیے ہیں، جبکہ ذات اور مذہب کی بنیاد پر تنازعات پیدا کرنا اور ’پیسہ پھینک تماشا دیکھ‘ کا کھیل عروج پر ہے۔
پونے کے مُنڈھوا زمین گھوٹالے کا ذکر کرتے ہوئے سپکال نے کہا کہ شیتل تِجوانی کی گرفتاری انہیں بلی کا بکرا بنانے کی کوشش ہے، جبکہ اس زمین کی خریدار کمپنی کے مالک، نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کے بیٹے پارتھ پوار پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور نہ ہی حکومت کرے گی۔ ناندیڑ کے تپوون علاقے میں کُنبھ میلے کی تیاریوں کے نام پر سینکڑوں درختوں کی کٹائی پر کانگریس نے شدید اعتراض کیا ہے۔ سپکال نے کہا کہ یہی تپوون وہ مقام ہے جہاں رام، سیتا اور لکشمن نے قیام کیا تھا۔ اس مقدس جنگل کی کٹائی بی جے پی مہایوتی حکومت کی اپنی روحانی وراثت کو مٹانے کے مترادف ہے اور یہ صریح بدعملی اور بے حرمتی ہے۔
MPCC Urdu News 4 December 25.docx