بابری مسجد کے انہدام پرعدالت کا فیصلہ افسوسناک یہ فیصلہ حقائق کی بنیاد پر نہیں ہوا ہے: حسین دلوائی

1

ممبئی:بابری مسجد انہدام معاملے میں سی بی آئی عدالت عدالت نے آج جو فیصلہ دیا ہے وہ افسوسناک ہے۔ یہ فیصلہ حقائق کی بنیاد پر نہیں ہوا ہے اس لیے ملک کی عوام کا عدالتی نظام پر اعتماد متزلزل ہوگا۔ یہ خوف آج یہاں سابق ممبرپارلیمنٹ حسین دلوائی نے ظاہر کی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ بابری مسجد کو منہدم کرنے کے لیے بی جے پی وسنگھ پریوارنے پورے ملک میں مہم شروع کی تھی۔ رتھ یاترا نکالی گئی، فسادات کرائے گئے جن میں ہزاروں بے قصوروں کی جانیں گئیں۔ 15لاکھ لوگ ایودھیا میں جمع ہوئے تھے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کن کی سربراہی میں وہاں جمع ہوئے تھے؟ یہی نہیں بلکہ ان میں سے بیشتر لوگ مسجد کو مہندم کرنے کے لیے استعمال ہونے والے اوزار تک ساتھ لائے تھے۔ اس کے ثبوتوں کی بنیاد پرخبریں اخبارات ونیوزچینلوں کے ذریعے پورے ملک نے دیکھا ہے۔ اس کے باوجود اس سازش میں شریک ملزموں کو ثبوتوں کی کمی کی بنیاد پر بری کردیا جاتا ہے جو انتہائی افسوسناک وسمجھ سے بالاتر ہے۔حسین دلوائی نے کہا کہ اس فیصلے کے بعد کچھ لوگ مٹھائیاں تقسیم کرتے ہوئے خوشیوں کا اظہار کرہے ہیں، ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے ہیں۔

یہ دیکھ کر مہاتماگاندھی کے قتل کے بعد کا واقعہ یادآجاتا ہے جب کچھ خاص لوگوں نے خوشیوں کا اظہار کرتے ہوئے اسی طرح سے پیڑے تقسیم کئے تھے۔